اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 36

36 بات تمہارے رب کے نزدیک تمہارے حق میں بہتر ہے۔کیونکہ جتنی بار تم نفس امارہ کو کچلو گے اتنا ہی تم خدا کے حضور رفعت و درجات میں ترقی کرو گے اور وہ بھی تمہیں مزید نیکیوں کی توفیق دے کر رحمت کا سلوک فرماتے ہوئے تمہارے قریب ہوتا جائے گا۔” فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَابُ الرَّحِيمُ “ کا یہ مطلب ہے۔(۲) امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں۔وَ قَوْلُهُ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ، قِيلَ: مَعْنَاهُ : لِيَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَقِيلَ: عُنِيَ بِقَتْلِ النَّفْسِ إِمَاتَةُ الشَّهَوَاتِ (المفردات فی غریب القرآن۔زیر لفظ ”قتل“ کہ قتل نفس سے بعض لوگوں نے ظاہری قتل مراد لیا ہے لیکن علماء کی طرف سے ایک خیال یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد شہوات نفسانیہ کو ختم کرنا اور کچلتا ہے۔اب میں دوسری دلیل کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔علماء کی دوسری دلیل قتل مرتد کے جواز میں دوسری مزعومہ قرآنی دلیل مودودی صاحب اپنے رسالہ میں پیش فرماتے ہیں مگر وہ مولانا عثمانی صاحب کی دلیل کا کوئی ذکر ہی نہیں کرتے۔گویا ان کے نزدیک بھی اس دلیل کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ورنہ اگر وہ اتنی مضبوط دلیل ہوتی تو وہ اس کی طرف بھی متوجہ ہوتے۔انہوں نے ایک اور استدلال سورۃ تو بہ کی درج ذیل آیات سے کیا ہے۔