اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 34

34 بھی عقل ہوگی وہ بھی اس چکر میں سے نکل کر باہر نہیں جاسکتا۔الٹ کہنا چاہئے تھا۔کہنا یہ چاہئے تھا کہ جس میں ذرا بھی عقل ہو گی وہ اس پھندے میں پڑ نہیں سکتا۔کیونکہ قرآن کریم کی یہ آیات کسی طرح بھی اجازت نہیں دیتیں کہ ان سے قتل مرتد کا جواز نکالا جائے۔اگر قرآن کی یہ بات درست ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو چھوڑ کر ساری قوم مرتد ہو گئی تھی تو کس نے کس کو قتل کیا ؟ کیا اشارہ بھی ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں نے مل کر ساری قوم کو قتل کر دیا تھا اور صرف ان کے لیڈر سامری کو چھوڑ دیا تھا؟ اگر ایسا ہوتا تو موسیٰ کی قوم کا نام ونشان مٹ چکا ہوتا۔قتل معنوی پھر اس سے اگلی آیت کے معا بعد ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ثُمَّ بَعَثْكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (البقرة : ۵۷) کہ پھر ہم نے تمہارے مرنے کے بعد دوبارہ تمہیں زندہ کر دیا تا کہ تم شکر کرو۔گویا اس موت کی وضاحت کر دی جس کو اپنے نفسوں پر وارد کرنے کا حکم انہیں دیا گیا تھا، اور بتا دیا کہ وہ لوگ مادی لحاظ سے نہیں مارے گئے تھے۔قتل نہیں ہوئے تھے بلکہ انہوں نے اپنے لئے اپنے نفس پر ایک موت وار د کر لی تھی۔اور اسی کا حکم تھا۔اور جب انسان اپنے نفس پر خدا کی خاطر موت وارد کرتا ہے تو اس کی زندگی خدا کے ذمہ ہو جاتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ”اب“ کا مضمون بھی بیان فرما دیا کہ کس طرح اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔انہوں نے اپنے نفسوں کو مارا، خدا نے ان کو نئی زندگی عطا کر دی۔جس پر وہ شکر کرتے تھے کہ ہم مردہ قوم تھے۔کس طرح خدا نے ہمیں روحانی طور پر زندہ کر دیا۔واقعتا ہم پر شکر واجب ہو جاتا ہے۔