اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 17
17 ”جمہوری انتخاب کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے دودھ کو بلو کر مکھن نکالا جاتا ہے۔( کیسی عمدہ مثال دی ہے۔اس سے تو کوئی انکار نہیں۔نہایت خوبصورت مثال ہے۔مگر اس سے نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ناقل) اگر دودھ زہریلا ہو تو اس سے جو مکھن نکلے گا قدرتی بات ہے کہ وہ دودھ سے زیادہ زہریلا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پس جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر مسلم اکثریت کے علاقے ہندو اکثریت کے تسلط سے آزاد ہو جائیں اور یہاں جمہوری نظام قائم ہو جائے تو اس طرح حکومت الہی قائم ہو جائے گی ، ان کا گمان غلط ہے۔دراصل اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہوگا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہوگی“۔( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش صفحہ : ۱۰۷-۱۰۸) یہ کل کی باتیں ہیں۔آج کی باتیں کچھ اور ہو رہی ہیں۔کیا دین اسلام اس طرح اپنے رنگ بدلا کرتا ہے؟ کیا کوئی بھی حق کی بات اس طرح پینترے بدل کر ، مختلف حلیئے مختلف شکلیں اختیار کیا کرتی ہے؟ پھر فرماتے ہیں: یہاں جس قوم کا نام مسلمان ہے وہ ہر قسم کے رطب و یا بس سے بھری ہوئی ہے۔کریکٹر کے اعتبار سے جتنے ٹائپ کافروں میں پائے جاتے ہیں اتنے ہی اس قوم میں بھی موجود ہیں“ ( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم بارششم صفحه : ۱۰۷-۱۰۸) ارتداد کی تعریف اب میں ارتداد کی تعریف کی طرف توجہ کرتا ہوں۔علامہ راغب اپنی کتاب المفردات“ میں لکھتے ہیں: