اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 12

12 مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کا اعلان کرتا ہے : یعنی خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔پس جہاں تک مسلمان کی تعریف کا تعلق ہے مجھے تو یہی تین تعریفیں نظر آئی ہیں اور یہی تین تعریفیں پسند ہیں اور ان کے سوا میں اور کسی تعریف کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، کیونکہ یہ تعریفیں بانی اسلام حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریفیں ہیں۔علماء کا عذر لنگ ایک اور دلچسپ بات یہاں بیان کرنے کے لائق یہ ہے کہ تحقیقاتی عدالت کی اس رپورٹ پر کہ کوئی دو علماء بھی کسی ایک تعریف پر متفق نہیں ہو سکے، تبصرہ کرتے ہوئے بعد میں علماء نے یہ تنقید کی کہ دراصل ہمیں کافی وقت نہیں دیا گیا۔ہم اس سوال کے جواب کے لئے تیار ہی نہیں تھے۔اگر ہمیں پورا وقت مل جاتا تو پھر ایسی تعریف ضرور بنا لیتے جس پر ہمارا اتفاق ہو جاتا۔مرتضی احمد خان میکش درانی محاسبه یعنی عدالت تحقیقات فسادات پنجاب (۱۹۵۳ء) کی رپورٹ پر ایک جامع اور بلیغ تبصرہ۔لاہور۔روزنامہ نوائے وقت پاکستان صفحہ : ۳۸) علماء کی اختراع کردہ تعریف چنانچہ ایک لمبے عرصہ تک ان کو انتظار کرنا پڑا۔۵۳ء کی تحریک پر سالہا سال گزر گئے تو ۱۹۷۴ء میں جا کر علماء نے وہ تیاری کی اور وہ نئی تعریف، اسلام کی ایجاد کی جس کا بانی اسلام اور قرآن وسنت سے کوئی بھی تعلق نہیں۔اس تعریف میں ایک منفی پہلو داخل کیا گیا اور وہ منفی پہلو یہ تھا کہ مسلمان وہ ہے جو محض لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کا اقرار نہ کرے بلکہ