اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 7
7 تعریف نبوی۔اول سب سے عمومی تعریف جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ہمیں ملی ہے اور جس میں سب سے زیادہ وسعت ہے اور جس کی رو سے کوئی مسلمان کہلانے والا کسی دوسرے مسلمان کو مرتد قرار دے ہی نہیں سکتا، جب تک وہ خود اعلان کر کے اسلام سے باہر نہ نکلے، وہ یہ ہے قَالَ النَّبِيُّ الا الله : أكتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامِ مِنَ النَّاسِ (صحیح بخاری، کتاب الجهاد، باب كتابة الامام الناس و صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب جواز الاستسرار بالايمان للخائف باختلاف الفاظ) یہ حدیث اس موقع سے تعلق رکھتی ہے جب مدینے میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردم شماری کروائی۔اور چونکہ مردم شماری کا معاملہ سب سے زیادہ عموم رکھتا ہے اس لئے سب سے زیادہ عمومی تعریف آپ نے اس موقع پر فرمائی۔فرمایا: ” میرے لئے مسلمانوں کی مردم شماری کے لئے ( یعنی اس میں یہ مفہوم ہے) ہر اس شخص کا نام لکھ دو جو اپنے منہ سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔“ آپ نے کسی اور جھگڑے میں پڑنے کی اجازت ہی نہیں دی۔کلمہ تک کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ جہاں تک عمومی مردم شماری کا تعلق ہے ، جہاں تک ملی سیاست کا تعلق ہے ، صرف یہ تعریف کافی ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے اس کا میرے لئے نام لکھ دو۔”میرے لئے“ کا لفظ بہت ہی پیارا لفظ ہے، یعنی یہ تعریف مجھے قبول ہوگی،