اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 132
132 کا پورا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ پوری کوششیں شروع کر دیں۔پھر فرمایا: وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ کہ انہوں نے بھی تدبیریں کیں اور خدا بھی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ ہی سب تدبیر کرنے والوں سے بہتر تد بیر کرنے والا ہے۔شرم تم کو مگر نہیں آتی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم جس تاریخ کو محفوظ فرما چکا ہے اور جسے مختلف رنگ میں بار بار اور بڑی وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور حضرت نوح کا نام لے کر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک جملہ انبیاء کا نام لے کر بلا استثناء اور مسلسل یہ بحث ہمیں بتاتا چلا جا رہا ہے کہ انبیاء کے مخالفین اس عقیدے پر متفق تھے۔ہر وقت کے نبی کا مخالف ہر دوسرے وقت کے نبی کے مخالف کے ساتھ یہ اتفاق و اجماع رکھتا تھا کہ مرتد کی سزا ضرور ہونی چاہئے ،خواہ اسے قید کرو یا گھروں سے نکال دو۔( یہ تینوں قسم کی سزائیں علماء اسلام بھی آج کل بتا رہے ہیں۔لیکن سزا ضرور دو۔خصوصاً اس مرتد کو تو قتل کرنا لازم ہو جاتا ہے جو اپنے دین کی دوسروں کو تبلیغ بھی شروع کر دے۔۔اور اس ساری تاریخ میں اللہ تعالیٰ مسلسل ہمیں بتاتا چلا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جھوٹے اور ظالم تھے جو قتل یا کوئی اور سزا ارتداد کی تجویز کیا کرتے تھے۔وہ دین میں جبر کے خواہاں تھے اور اسی کا ادعا کیا کرتے تھے۔اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام انبیاء نے بلا استثناء ان کے ان دعاوی کو رد کیا۔نامراد قرار دیا اور جھوٹا اور ذلیل قرار دیا اور مذہب کی آزادی کا اعلان کیا۔انسانی ضمیر کی آزادی کا اعلان کیا۔