اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 130
130 نہایت فسادی شخص ہے۔تبلیغ پر جماعت کو آمادہ کر رہا ہے۔کہہ رہا ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ پھیل جاؤ اور بڑی تیزی کے ساتھ دنیا کوخدا کا پیغام دو۔” داعیین الی اللہ“ کی تحریک کر دی ہے۔یہاں تک لکھا ہوا ہے کہ پہلے خلفاء کچھ شریف تھے۔یہ تو بڑا خبیث اور شریر آدمی ہے۔یہ تو تیز کر رہا ہے جماعت کو۔ہم کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔میرا جواب پس میں ان لوگوں کو قرآن کی زبان میں وہی جواب دیتا ہوں جو اس وقت کے نبی نے دیا تھا ( اور میں نبیوں کی خاک پا کے برابر بھی اپنے آپ کو نہیں سمجھتا، مگر سنت نبویہ کی پیروی ضروری سمجھتا ہوں) میں حضرت موسیٰ کے قول سے سند لیتے ہوئے قرآن کی آواز میں انہیں مخاطب کر کے یہی کہتا ہوں۔: إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَ رَبَّكُمْ مِنْ كُلِّ مُتَكَيْرٍ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ خدا کی قسم! میں تم سے اور تمہارے جیسے شریروں سے اپنے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ہر اس متکبر سے جو یوم حساب پر یقین نہیں رکھتا ورنہ وہ ایسی ذلیل حرکتیں نہ کرتا۔اس طرح قرآن کریم مسلسل کئی آیات میں اس مضمون کو بڑھا تا چلا جا رہا ہے۔آیات بہت کثرت سے ہیں مگر اب میں مضمون کے آخری حصے کی طرف آتا ہوں۔سید الانبیاء پر ارتداد کا الزام سب سے بڑھ کر ، سب سے برتر ، سب سے اعلیٰ، سب سے افضل، سب سے احسن ہمارے آقا و مولی حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جو سب نبیوں