اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 125

125 انہوں نے کہا کہ سب اللہ کے نام کی قسم کھاؤ کہ ہم سب اس پر اور اس کے گھر والوں پر رات کے وقت حملہ کریں گے اور انہیں قتل کریں گے اور جو بھی ان کے خون کی دیت کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے گا ہم اس سے کہیں گے کہ ہم نے اس کے اہل کی ہلاکت کے واقعہ کو نہیں دیکھا اور ہم بچے ہیں۔ہمیں کچھ پتہ نہیں۔یعنی بعض جگہ کھلم کھلا مرتد کی سزا یہ قرار دی گئی اور بعض جگہ مخفی حملے کی صورت میں یہ سزا تجویز کی گئی ہے تا کہ جرم میں پکڑے نہ جائیں۔پس آج اگر پاکستان میں یہ ہو رہا ہے اور علماء کہہ رہے ہیں کہ تم قانون کی زد سے بچنے کے لئے چھپ کر حملے کرو، بوڑھوں کو مارو، عورتوں کو قتل کرو، بچوں کو قتل کرو تو یہ کوئی نیا واقعہ نہیں۔اس سے پہلے حضرت صالح کے زمانہ میں بھی یہ واقعات گزر چکے ہیں۔حضرت شعیب پر تہمت ارتداد حضرت شعیب کے متعلق قرآن کریم بیان فرماتا ہے: قَالَ الْمَلَأُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يُشْعَيْبُ وَالَّذِينَ مَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا اَو لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا قَالَ اَوَلَو كُنَّا كُرِهِيْنَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُمُ بَعْدَ إِذْ نَجنَا اللهُ مِنْهَا وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا إِلَّا أَنْ يشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا عَلَى اللهِ تَوَكَلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِينَ ) (الاعراف: ۹۰،۸۹) کہ شعیب کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ اے شعیب ! ہم ضرور تجھے