اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 112
112 کے ساتھ بڑی بے باکی اور بدزبانی کا مظاہرہ کیا تھا مگر پھر بھی آپ نے نہ اس کے قتل کا ارشاد فرمایا اور نہ ہی اس سے زبر دستی زکوۃ وصول کرنے کا۔بلکہ بعد میں خود ثعلبہ نادم ہو کر جب زکوۃ دینے آیا تو آپ نے لینے سے انکار فرما دیا اسی طرح آپ کے بعد ابو بکر، عمر وعثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اپنے اپنے زمانہ خلافت میں اس سے زکوۃ قبول نہ کی۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ زکوۃ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اور نہ ہی عہد صدیقی میں کوئی ایسا جبری ٹیکس سمجھی جاتی تھی جو قوت سے وصول کیا جاتا ہو اور جو زکوۃ دینے سے انکاری ہوتا اس کے خلاف چڑھائی کی جاتی تھی نہیں ، بلکہ مسلمان اپنے کامل ارادے سے اپنے مولا کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اپنے نفس کو پاک کرنے کی خاطر ز کوۃ ادا کرتا تھا۔اور ظاہر ہے کہ حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والے اور سب امور میں آپ کے اسوۂ حسنہ پر کار بند تھے۔ایسی صورت میں آپ کے لئے یہ ناممکن ہے کہ آپ تلوار کے زور سے کسی کو دین اسلام کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتے۔پس ہم خدا سے ڈرتے ہیں کہ ابوبکر کی طرف وہ بات منسوب کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مخالف ہے۔حقیقت یہی ہے کہ آپ نے ان مرتدین سے صرف اور صرف اس لئے جنگ کی تھی کہ تا آپ نئے نئے پروان چڑھنے والے اسلامی معاشرہ کو ان لوگوں کے فتنہ اور یورش سے بچاویں۔