اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 101
101 قتل مرتد کی تردید کرنے والی احادیث اب میں قتل مرتد کے عقیدہ کی تردید میں بعض کھلی کھلی ایسی احادیث پیش کر رہا ہوں، سنئے جو تل مرتد کے عقیدہ کے بخیے ادھیڑ دیتی ہیں۔پہلی حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بدو حاضر ہوا اور آ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔اس کے بعد اسے مدینہ میں بخار ہو گیا۔وہ بدو بیچارہ وہمی تھا وہ سمجھا کہ اسلام قبول کرنے کی سزا ملی ہے۔بیچارہ بڑا سادہ آدمی تھا۔اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا اسلام واپس کر دیں۔میں باز آیا اس بیعت سے جس کے نتیجے میں مجھے تکلیف پہنچے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ یہ سادہ آدمی ہے اس لئے آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ دیکھو اگر تم نے ارتداد کیا تو قتل کر ڈالونگا نہیں بلکہ، آپ نے واضح انکار کر دیا کہ میں تمہاری بیعت واپس نہیں کرتا۔پھر وہ دوبارہ آیا۔بخارا بھی چڑھا ہوا تھا اور کہا میں بیعت فسخ کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔مجھے معاف کر دیں (وہ سمجھتا تھا کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان نہ کریں کہ میں نے تمہارا اسلام واپس کر دیا میرا بخار نہیں اترے گا)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: نہیں میں نے تمہاری بیعت واپس نہیں کرنی۔اس پر اس نے تیسری بار آ کر عرض کی کہ میری بیعت واپس کر دیں آپ نے فرمایا: نہیں، میں نے نہیں کرنی۔چنانچہ بدو