اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 96

96 مُسْلِمٍ يَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ أَحْصَانٍ فَإِنَّهُ يُرْجَمُ، وَ رَجُلٌ خَرَجَ مُحَارِبًا بِاللَّهَ وَرَسُولِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ اَوْ يُصَلَّبُ اَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ ، أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا - (ابوداؤد كتاب الحدود باب الحكم فيمن ارتد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا جو " لا اله الا الله محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہو سوائے تین وجوہ کے خون بہانا حرام ہے۔یا وہ ایسا شخص ہو جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو۔ایسے شخص کو سنگسار کیا جائے گا۔یا ایسا شخص ہو جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے نکلا ہوا ایسے شخص کو یا قتل کیا جائے یا صلیب دے کر مار دیا جائے گا یا ملک بدر کیا جائے گا۔یا ایسا شخص ہو جس نے کسی جان کا ناحق خون کیا ہو۔اسے مقتول کے بدلے قتل کیا جائے گا۔لغت میں قتل کے مجازی معنی پھر لغت کی کتب میں قتل مجازی معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔چنانچہ عربی زبان کے جید علماء نے لکھا ہے: وَ مِنَ الْمَجَازِ : قَتَلَ الشَّيْئَ خَبْرًا أَوْ عِلْمًا - أَى عَلِمَهُ عِلْمًا تَأَمَّا - وَ قَتَلَ الشَّرَابَ: إِذَا مَزَجَهُ بِالْمَاءِ فَأَزَالَ بِذلِكَ حِدَّتَهُ - وَ قَتَلَ فُلَانًا : أَذَلَّهُ - وَتَقَبَّلَ الرَّجُلُ لِلْمَرَأَةِ: خَضَعَ - وَ نَاقَةٌ مُقَتَلَةٌ : مُذَلَّلَةٌ