اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 93
93 اب اس موضوع پر چند مزید احادیث پیش کرتا ہوں۔(0) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : لَا يَحِلُّ دَمُ امْرَيْ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثِ اَلنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالطَّيِّبُ الزَّانِي، وَالْمُفَارِقُ لِدِينِهِ، النَّارِكُ لِلْجَمَاعَةِ (بخاری کتاب الديات باب قول الله تعالى: ان النفس بالنفس۔۔۔۔) یعنی عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی یسے مسلمان کا خون کرنا جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں (محمد) اللہ کا رسول ہوں ہرگز جائز نہیں سوائے تین صورتوں کے۔اول یہ کہ اس نے کسی جان کو قتل کیا ہو جس کے بدلہ میں اسے قتل کیا جائے۔دوم یہ کہ وہ ایسا شخص ہو جو با وجود شادی شدہ ہونے کے زنا کا مرتکب ہوا ہو۔سوم یہ کہ وہ دین سے نکل جائے اور جماعت کو چھوڑ دے۔(ب) حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزَ أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا قَالَ لِي مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ ؟۔۔۔۔قُلْتُ : فَوَاللَّهِ مَا قَتَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا فِي صلى الله إحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ فَقُتِلَ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِ أَوْ رَجَلٌ حَارَبَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الإِسْلَامِ فَقَالَ الْقَوْمُ: أَوَ لَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ الله قَطَعَ فِي السَّرَقِ وَ سَمَرَ الْأَعْيُنَ ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ ؟ فَقُلْتُ أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ أَنَّ نَفَرًا