اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 94

94 صلى الله مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَبَايَعُوهُ عَلَى الإِسْلامِ فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ، فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ فَشَكَوا ذلِكَ إِلى رَسُولِ اللهِ الا الله قَالَ : أَفَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِيْنَا فِي إبلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَ اَبْوَالِهَا؟ قَالُوا: بَلَى فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَ أَبْوَالِهَا فَصَحُوا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللهِ الا الله وَ أَطْرَدُوا النَّعَمَ - فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ الله ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ فَأُدْرِكُوا - فَجِئ بِهِمْ، فَأَمَرَبِهِمْ فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَ أَرْجُلُهُمْ وَ سَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ثُمَّ نَبَذَهُمُ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا قُلْتُ وَأَيُّ شَيْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ؟ اِرْتَدُّوا عَنِ الإِسْلَامِ وَ قَتَلُوا وَ سَرَقُوا ހ (بخارى كتاب الديات باب القَسَامَةِ) ابوقلابہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک روز باہر دربار لگایا اور لوگوں کو ملنے کے لئے بلایا لوگ آپ کے پاس آئے ایک کیس کے بارہ میں آپ نے مجھے فرمایا: ابو قلابہ تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے عرض کی: خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے درج ذیل تین قسم کے مجرموں کے کسی کو قتل نہیں فرمایا۔ایک تو وہ جو دوسرے کو اپنے نفس کے جوش کی وجہ سے قتل کرے۔دوسرا وہ جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرے۔تیسرا وہ جو مرتد ہو کر اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کے لئے نکلے۔اس پر موجو دلوگوں نے کہا۔کیا حضرت انس سے مروی نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹنے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر نے اور پھر دھوپ میں تڑپ تڑپ کر مرنے