اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 71
71 مسلمان کہلانے کے باوجود، کلمہ پڑھنے کے باوجود، مسلمانوں کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے باوجود، زکوۃ کا قائل ہونے کے باوجود اور زکوۃ ادا کرنے کے با وجود مرتد قرار دے کر قتل کرایا ہو۔بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ نے مرتدین میں سے صرف ان لوگوں کے خلاف لڑائی کی جنہوں نے ارتداد کے ساتھ ساتھ اسلامی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔اور آپ کے گورنروں اور عمال کو ان کے علاقوں سے مار بھگا دیا اور مسلمانوں کو شدید تکالیف پہنچا ئیں اور انہیں بُری طرح قتل کیا تھا۔آپ نے ان بد بختوں کے خلاف اس لئے جنگ کی کہ ان ظالموں نے ہی جنگ اور ظلم کی ابتدا کی تھی اور بے گناہ مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنا شروع کر دیا تھا۔مرتدین کی بغاوت کے تاریخی شواہد چنانچہ کتب سیرت و تاریخ اس فتنہ ارتداد اور بغاوت کی تفاصیل یوں بیان کرتی ہیں: ا۔بغاوت اور ارتداد کا یہ فتنہ آگ کی طرح پھیلا اور چند روز میں عربستان کے اس سرے سے اس سرے تک دوڑ گیا۔مرتدوں اور باغیوں نے اسلامی عمال کو نکال دیا۔اپنے ہاں کے صادق الایمان مسلمانوں کو دردناک ایذا ئیں دیں اور بے رحمی سے قتل کیا۔“ شیخ محمد اقبال ایم اے۔داستان اسلام حصہ دوم۔خلافت راشده - ۱۹۷۰، مطبوعہ پنجاب پر لیس صفحه ۳۳) یہ واقعہ نہیں ہو رہا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے ارتداد کی خبر سن کر ان کو قتل کرنے کا حکم دیدیا۔بلکہ وہ ظالم بد بخت مسلمانوں کو ارتداد کے جرم میں قتل کر رہے تھے کہ تم ہماری ملت سے پھر کر اسلام قبول کر چکے ہو واپس لوٹ آؤ ورنہ ہم تمہیں قتل کردیں گے اور طرح طرح کی اذیتیں دے کر ارتداد کی سزا وہ دے رہے تھے۔اس