اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 56
56 دوسری آیت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ أُمِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا أُخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ( آل عمران ۷۳) کتب تفسیر بیان کرتی ہیں کہ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کے وفد کی رسول اللہ کے پاس مدینہ میں آمد کے بعد نازل ہوئی۔اور وفد نجران کی آمد کا یہ واقعہ رسول اللہ کی زندگی کے آخری سالوں کا ہے جب اسلامی سلطنت قائم ہو چکی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ اس واقعہ کے وقت تک نظر یہ قتل مرتد کا کوئی وجود نہ تھا۔ورنہ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اہل کتاب اپنے بھائیوں کو یہ مشورہ دیتے کہ صبح کے وقت قرآن پر ایمان لے آئیں اور شام کو مرتد ہو جائیں۔(ملاحظہ ہو۔السيرة النبوية لابن هشام قدوم وفد نصاری (نجران اور وہ بھی اس وقت جبکہ اسلامی حکومت خوب مستحکم ہو چکی تھی اور اہل کتاب مغلوب اور محکوم ہو گئے تھے۔ایسی صورتحال میں یہ کیسے ممکن تھا کہ یہ لوگ اپنے ساتھیوں کو ایسا مشورہ دیتے حالانکہ انہیں علم تھا کہ ارتداد کی سزا قتل ہے؟ اگر قتل مرتد کے قائل لوگوں کا موقف درست مانا جائے تو ایسی صورت میں ایسا مشورہ دینے والوں کو ان کے ساتھی جواب دیتے : تمہارے دماغ خراب ہیں کہ ایسا مشورہ دیتے ہو؟ کیا تمہیں علم نہیں کہ اگر ہم صبح ایمان لا کر شام کو ارتداد اختیار کر جائیں تو محمد ملے اور اس کے ساتھی فوراًہماری گردن اڑا دیں گے؟ مگر قرآن نے ان کا ایسا کوئی جواب ذکر نہیں کیا جس سے ثابت ہوا کہ ان