اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 39
39 آگے چل کے فرمایا: كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ إِلَّا وَلَا ذِمَّةً يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ تَأبى قُلُوْبُهُمْ ۚ وَاَكْثَرُهُمْ فَسِقَوْنَ اِشْتَرَوْا بِايْتِ اللهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَصَدُّوا عَنْ سَبِيْلِهِ ۖ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَا ذِمَةً وَأُولَيكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ ، فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكُوةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُوْنَ (التوبة: ۸ تا ۱ ۱ ) اس میں بھی کہیں اشارتاً بھی مسلمانوں کا ذکر نہیں۔فرماتا ہے: کیسے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مشرکین کے عہد کی کوئی وقعت ہوسکتی ہے؟ سوائے ان لوگوں کے کہ جن کے ساتھ تم نے مسجد حرام میں ایک عہد باندھا ہے۔یہ مشرکین جب تک اپنے عہد پر قائم رہیں گے تمہارے ذمہ ہے کہ ان کو اپنی تکلیف دہی وایزا دہی سے محفوظ رکھو۔ہرگز ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کرو۔اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيكُمْ إِلَّا وَّلَا ذِمَّةً کیسے ان کے عہد کی کوئی اہمیت ہو سکتی ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں تو تمہارے بارہ میں نہ کوئی رشتہ داری ان کو منظور خاطر ہوگی، نہ کسی عہد کی وہ پروا کرنے والے ہوں گے۔وہ منہ سے صرف تمہیں راضی کرنے کی باتیں کرتے ہیں جبکہ ان کے دل باغی ہیں اور تم سے متنفر اور دور ہیں۔انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے دنیا کا تھوڑا مال لینا منظور کر لیا ہے اور اس کی راہ سے لوگوں کو روکنے