اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 136

136 بیچارے اکیلے سوٹ پہن کر بیٹھے ہوئے تھے۔شام کو ان کی تقریر بھی تھی۔ان کو خیال آیا کہ یہ تو بڑا اظلم ہے۔روم میں اسی طرح کرنا چاہئے جیسے رومن کیا کرتے ہیں۔مجھے کون دیکھے گا۔ننگے ہی دیکھیں گے نا۔کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک دن میں ان کی خاطر سوٹ اتار دیتا ہوں۔ادھر نگوں کو خیال آیا کہ آخر ہمارا مہمان ہے کوئی عزت افزائی ہونی چاہیئے۔ایک دن اس کی خاطر ہم کپڑے پہن لیں تو کیا حرج ہے؟ پس شام کو اس جگہ کے زمین و آسمان نے ایک مختلف نظارہ دیکھا۔سارے ننگے کلب کے ممبر کپڑے پہن کر آئے ہوئے تھے۔وہ پروفیسر بیچارہ اکیلا نگا تھا۔پس خدا کی قسم ! آج کی اس دنیا میں تاریخ کے سارے ننگوں نے کپڑے پہن لئے ہیں۔اگر ننگا ہے تو صرف ملاں نگا ہے۔اگر ننگا ہے تو صرف ملاں ننگا ہے۔صلى الله دعاء مصطفوی علیہ کا معجزہ اب میں اس تقریر کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔خدا کرے کہ کچھ کان ایسے بھی ہوں جو سننے والے ہوں۔کچھ دل ایسے بھی ہوں جن پر ہدایت کی بات اثر رکھتی ہو۔کوئی مانے یا نہ مانے ، میرا اور آپ کا مقام تو وہی رہے گا جو ہمارے آقا ومولا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تھا اور اسی سنت سے ہم چمٹے رہیں گے جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی۔فَذَكَّرُ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرُهُ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرٍه (الغاشية: ۲۳،۲۲) ہم آج کی دنیا کے زخم دھونے کے لئے تو آئے ہیں۔ہم آج کی دنیا کی