اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 99

99 امارات کے لئے پیش کرے تو اُقْتُلُوهُ یعنی اسے یوں سمجھو کہ جیسے وہ ہلاک ہو گیا ہے۔اس کی بات کو نہ مانو۔تو معلوم ہوا کہ قتل کا لفظ عربی میں بہت ہی وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اس لئے فَاقْتُلُوهُ سے ہمیشہ بدنی قتل مراد لینا آیات قرآنیہ صریحہ کے منافی ہے اور سنت رسول کے مخالف۔حضرت عمرؓ سے ثابت ہے کہ آپ نے اُقْتُلُوهُ کا لفظ بائیکاٹ کرنے اور کالعدم سمجھنے کے معنوں میں استعمال کیا۔چنانچہ ایک معزز صحابی نے ابتدا میں حضرت ابوبکر کی بیعت نہ کی تو حضرت عمرؓ نے اس کے متعلق اقتلُوهُ کے الفاظ استعمال فرمائے۔اور سب نے یہ مراد لی کہ اس سے قطع تعلق کر لو۔تاريخ الطبرى مطبوعه دار المعارف مصر۔سن اشاعت ۱۹۶۲ء جزء ثالث صفحه ۲۲۲) جہاں تک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا روایت کا تعلق ہے اس میں اور بھی باتیں ایسی ہیں جو درایڈ درست معلوم نہیں ہوتیں۔مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کر دو۔یہ قرآن کریم میں کہیں مذکور نہیں۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی حکم کے خلاف کوئی حکم جاری فرمایا ہو۔مزید برآں جو یہ ارشاد ہے کہ زانی سے کوئی شادی نہ کرے سوائے ایک ایسے شخص کے جو خود بھی زانی ہوصاف بتا رہا ہے کہ زانی کو سنگسار نہیں کیا جاتا تھا ورنہ وہ شادی کیلئے بچتا ہی نہ۔دوسرا حصہ جو کسی کو عمد اقتل کرے۔لفظاً بھی اطلاق پاتا ہے اور عین انصاف کے مطابق ہے کہ قاتل کو قتل کے بدلہ میں قتل کیا جائے سوائے اس کے کہ مقتول کے ورثاء اسے معاف کر دیں۔