اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 95

95 کی سزا دی ؟ اس پر میں نے کہا کہ میں تمہیں انس والی اصل روایت بتاتا ہوں۔انس نے خود مجھ سے بیان کیا تھا کہ ٹھکل قبیلہ کے آٹھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام لائے۔مگر انہیں اس زمین ( یعنی مدینہ) کی آب و ہوا راس نہ آئی اور ان کے جسم بیماری کی وجہ سے کمزور پڑ گئے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔آپ ﷺ نے انہیں فرمایا آپ لوگ ہمارے چرواہے کے ساتھ ہماری اونٹوں کی چراہ گاہ پر چلے جائیں اور ان کے دودھ اور پیشاب استعمال کریں۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔چنانچہ وہ چراہ گاہ پر چلے گئے۔وہاں اونٹوں کے دودھ اور پیشاب پینے سے جب ان کو صحت ہو گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لئے گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ نے ان لوگوں کو پکڑنے کے لئے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے جنہوں نے انہیں جالیا۔جب یہ لوگ آپ کے سامنے حاضر کئے گئے تو آپ نے انہیں سزا دینے کا حکم دیا چنانچہ ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری گئیں۔پھر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔میں نے کہا: کیا ان کے جرم سے بڑھ کر بھی کوئی جرم ہوسکتا ہے جس کی انہیں سزا دی گئی۔انہوں نے اسلام سے مرتد ہونے کے بعد قتل کیا اور چوری بھی کی۔(ج): عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ