اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 90 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 90

گویا تمام جائداد ذوی الفروض میں ہی پوری تقسیم ہو جائے گی مگر تقسیم سے پہلے ادا ئیگی وصیت لازمی ہے اس لئے وصیت کی رقم = باقی تر که قابل تقسیم مابین ورثاء= ۶۰۰۰ میں ہر ایک بیٹی کا حصہ : ۶۰۰۰ میں والد کا حصہ ۶۰۰۰ میں والدہ کا حصہ مثال نمبر ۲۵ : ۹۰۰۰ × ۱/۳ - ۳۰۰۰ روپے ۶۰۰۰: ۰ - ۳۰۰۰ - ۹۰۰۰ رو × ۶۰۰۰ = × ۶۰۰۰ = = پے ۱/۳ = ۲۰۰۰ روپے ۱/۲ = ۱۰۰۰ روپے ۶۰۰۰ × ۱/۲=۱۰۰۰ روپے ایک میت نے زوجہ ، والدہ ، والد، پانچ لڑکے اور تین لڑکیاں وارث چھوڑے اس کا تر که ۵۰۰۰ روپے ہے قرضہ ۱۰۰۰ روپیہ ہے اور ۱/۱۰ کی وصیت بنام انجمن ہے۔ہر ایک وارث کا حصہ بتائیے۔والد کا حصہ والدہ کا حصہ زوجہ کا حصہ باقی 1/4 = 1/4 = 1 − ( + + + + \ ) = 1 − +√t = 144 1 +۴+۴ یہ ۱۳/۲۴ عصبات میں تقسیم ہو گا۔یہاں عصبہ ۵ لڑکے اور لڑکیاں ہیں۔ان میں یہ ۱:۲ کی نسبت سے تقسیم ہو گا۔اس لئے ۱۳ حصوں میں سے دو حصے ہر لڑکے کو اور ایک حصہ ہر لڑکی کو ملے گا۔ایک لڑکے کا حصہ ایک لڑکی کا حصہ قرضہ وصیت کی رقم قابل تقسیم ترکه ترکہ میں والد کا حصہ = = i ۱۳ ۱۲ = ۲۴ = ۲۴ ۱۳ ۲۴ == ۲۴ ۱۰۰۰ روپے ۴۰۰۰ T x = ۴۰۰ روپے ۱۰۰۰-۵۰۰۰ - ۴۰۰ = ۳۶۰۰ روپے ۳۰ × 7 = ۲۰۰ روپے