اسلام کا وراثتی نظام — Page 75
۷۵ دوسرے ذوی الفروض کو دینے کے بعد باقی تمام تر کہ بھی والد کو ہی دے دیا جاتا ہے۔ج۔اگر میت کی کوئی بھی اولاد نہ ہو تو زوج یا زوجہ کو اس کا معین حصّہ (۱/۲ یا ۱/۴) دے کر باقی جو بچے اس کا ۳/ ا والدہ کو اور ۲/۳ والد کو دے دیا جاتا ہے۔یعنی والد کسی صورت میں بھی کلیۂ محروم نہیں ہو سکتا۔یہ تینوں صورتیں مثالوں کے ذریعے واضح کی جاتی ہیں۔مثال نمبر 1: ایک متوفی نے دو بیویاں، والد ، ۵ لڑکے اور لڑکیاں چھوڑیں اگر اس کا ترکہ بعد منہائی مصارف تجہیز و تکفین و تدفین اور ادائیگی قرض و وصیت ۲۴۰۰۰ روپے ہو تو ہر کا حصہ بتاؤ۔چونکہ متوفی کی اولا دموجود ہے اس لئے والد کو چھٹا (۱/۶) حصہ ملے گا۔والد کا حصہ = ١/٦ دو بیویوں کا حصّہ = ۱/۸ باقی = 1- ( ) ہر بیوی کا حصہ = ۱/۱۶ =ا - ۳+۴ = ۲۴ ۲۴ یہ ۲۴ / ۱۷ جو باقی بچا ہے عصبات میں یعنی لڑکے اور لڑکیوں میں تقسیم ہو گا۔اس طرح کہ ہر لڑکے کو لڑکی سے دُگنا ملے۔اس طرح ۵ لڑکوں اور ے لڑکوں کے کل ۱۷ سہام ( حصّے ) بنے جن میں سے دوسہام ہر بیٹے کو اور ایک سہم ہر بیٹی کو ملے گا۔+=+ x = ۱۷ ۲۴ #== x = r۔۔۔= × rr۔۔۔= ۲۴۰۰۰ اس لئے لڑکے کا حصہ لڑکی کا حصہ ۲۴۰۰۰ روپے میں دو بیویوں کا حصہ اس طرح ایک بیوی کا حصہ = ۱۵۰۰ روپے والد کا حصہ ۲۴۰۰۰ × = = ۴۰۰۰ روپے