اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 74 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 74

۷۴ ذوی الفروض اور مختلف حالات میں اُن کے مختلف حصے ! پچھلے باب میں بیان ہو چکا ہے کہ ایسے رشتہ دار جن کے حصے خدائے علیم و حکیم نے مقرر و معین فرما دیئے ہیں وہ وراثتی اصطلاح میں ذوی الفروض کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور ان کی تعداد ۱۲ ہے جس میں چار مرد اور آٹھ عورتیں ہیں جو یہ ہیں۔باپ والده ۲۔دادا ۴۔اخیافی بھائی۔شوہر ۶۔بیوی ے۔بیٹی پوتی حقیقی ہمشیرہ ۱۰ علاقی ہمشیرہ 11۔اخیافی ہمشیرہ ۱۲۔دادی و نانی (جدات صحیحہ ) جو حصے مختلف رشتہ داروں کو مختلف حالات میں دیئے جاتے ہیں وہ یہ ہیں۔6 ے دیے دیے دیے در وY بعض انہیں اس طرح لکھتے ہیں۔6 6 6 والد کا حصّہ والد کو مختلف حالات میں جو حصے دیئے جاتے ہیں وہ یہ ہیں۔الف۔جب میت نے کوئی بیٹا یا بیٹے کی مذکر اولا د یا پوتے کی مذکر اولا د چھوڑی ہو تو والد کو صرف + حصہ ملتا ہے۔اگر میت کی اولاد نرینہ کسی درجہ میں بھی نہ ہو یعنی نہ بیٹا ہو نہ پوتا نہ پڑپوتا تو میت کے والد کو نہ صرف چھٹا حصہ ملتا ہے بلکہ تمام ذوی الفروض موجودہ کو ان کے حصے ادا کرنے کے بعد جو کچھ باقی بچے وہ بھی والد بطور عصبہ حاصل کر لیتا ہے۔گویا