اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 73 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 73

۷۳ ۳۔نافرمانبرداری بعض دفعہ والدین اپنے نافرمانبردار بچوں کو ان کے کسی ناپسندیدہ سلوک کی وجہ سے اپنی جائداد سے محروم کر دیتے ہیں۔ایسے والدین کو معلوم ہونا چاہئے کہ انہیں کسی وارث کو اس کے شرعی حصہ سے محروم کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔شریعت نے اُن کے بچوں کا حق تسلیم کیا ہے اس لئے وہ انہیں ملے گا۔سوائے اس کے کہ کوئی بچہ ذہنی لحاظ سے معذور ہو جس سے جائداد کے ضائع ہونے کا ڈر ہو۔ایسی صورت میں ایسے بچوں کے لئے نگران مقرر کر دیے جائیں اور ان کا شرعی حصہ بطور امانت محفوظ رکھا جائے اور ان بچوں پر ان کی ضروریات کے مطابق خرچ ہوتا رہے۔۴۔کم سنی ، چھوٹی عمر ابھی تک مسلمانوں کے بعض خاندانوں میں رواج ہے کہ والد کے فوت ہونے پر یا ان کے بوڑھے ہو کر معذور ہونے پر بڑا بیٹا یا اگر بیٹا نہ ہو تو بڑی بیٹی تمام جائداد کی مالک بن جاتی ہے۔چھوٹے بہن بھائیوں کو ان کا شرعی حق نہیں دیا جاتا۔یہی کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی خدمت میں رہ کر گزر اوقات کریں۔اس طرح یہ بچے جو چھوٹی عمر میں یتیم ہو گئے تھے۔بڑے ہو کر سخت معاشی بحران سے دوچار ہوتے ہیں اور بڑی کس مپرسی کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں۔حالانکہ اسلام نے تو اُس وارث کے حق کو تسلیم کیا ہے جو ابھی حمل کے مراحل سے گزر رہا ہو اور تاکید فرمائی ہے کہ اس کا انتظار کر کے یا اس کا حصہ نکال کر ترکہ تقسیم کیا جائے۔اس لئے ایسے بچوں کے بالغ ہونے پر اُن کے حصے ضرور اُن کے حوالے کر دینے چاہئیں۔کیونکہ اُن کی کم سنی کسی لحاظ سے بھی مانع میراث نہیں۔اس قسم کے بہت سے اور امور بھی ہیں جولوگوں نے اپنے طور پر خود معاشرہ میں رائج کر لئے ہیں یہ سب کسی نہ کسی بد رسم کا نتیجہ ہیں۔ہر مسلمان کو چاہئے کہ انیسی رسوم کو ترک کر کے اسلامی احکام وراثت کے مطابق تمام ورثاء کو وہ پورے پورے حصے دے دے۔جو ان کا حق ہے اور ایسے لوگوں کو وراثتی مال میں سے حصہ دینے سے اجتناب کرنا چاہئے جن کا کوئی حق نہیں بنتا۔