اسلام کا وراثتی نظام — Page 48
۴۸ کوئی شخص کسی ایسے کام کی وصیت کرتا ہے جس پر اس کے ترکہ کے ۱/۳ سے زائد خرچ ہوتا ہوتو اس وصیت کا پورا کرنا بھی واجب نہیں ترکہ کے ۱/۳ حصہ تک اس وصیت پر عمل کیا جا سکتا ہے یا پھر تمام ورثاء سے اجازت لے کر ثواب کی خاطر اسے پورا کیا جا سکتا ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ میرے ترکہ سے ۳۵۰۰۰ ہزار سے فلاں جگہ مسجد بنا دیں اور اس کی جائداد یعنی ترکہ کا ۱/۳ حصہ صرف ۳۰۰۰۰ ہزار روپے بنتا ہو تو ۳۰۰۰۰ ہزار کی رقم سے مسجد تعمیر کرا دی جائے اور اگر اس کے تمام شرعی وارث اجازت دیں تو بقیہ ۵۰۰ بھی ترکہ سے تعمیر مسجد پر خرچ کئے جاسکتے ہیں ورنہ ترکہ کے ۱/۳ حصہ تک کی رقم خرچ کرنے سے وصیت کی تعمیل ہو جائے گی۔مثال زید نے وصیت کی کہ اس کے ترکہ سے ۱۵۰۰ روپے خرچ کر کے محلہ کی مسجد میں کنواں بنوا دیں۔مگر اس کی وفات پر اس کے ترکہ کی مالیت بعد از ادائیگی قرضہ ۳۶۰۰ روپے ثابت ہوئی اور اس نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی وارث چھوڑے تھے تو بیٹے اور بیٹی کا حصہ بتائیے۔۳۶۰۰ روپے ۱۲۰۰ روپے ۱۵۰۰ روپے = = = کل تر که ترکہ کا چونکہ وصیت ۱/۳ سے زائد کی ہے اس لئے میت کے ورثاء بیٹا اور بیٹی کی اجازت مزید ۳۰۰ خرچ کے لئے ضروری ہے اگر یہ دونوں اس پر راضی ہوں کہ ان کے والد کی وصیت کو پورا کر دیا جائے تو پھر ترکہ سے ۱۵۰۰ روپے نکال کر کنواں بنوا دیں اور باقی ۱۰۰ روپے میں ۲: ا کی نسبت سے تقسیم کر دیں اس طرح سے بیٹے کا حصہ نوٹ: ۲/۳ = ۱۴۰۰ روپے ۲/۳ × ۲۱۰۰ = بیٹی کا حق = ۲۱۰۰ × ۱/۳ = ۷۰۰ روپے ہوگا۔اور اگر دونوں اجازت نہ دیں تو پھر وصیت کی تعمیل میں صرف ۱۲۰۰ روپیہ ہی خرچ کیا جا سکتا ہے اور اگر ان میں سے ایک اجازت دے تو پھر اس کے حصہ سے بقیہ ۳۰۰ لے کر