اسلام کا وراثتی نظام — Page 47
۴۷ اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت کی آپ نے دریافت فرمایا کیا تو نے وصیت کا ارادہ کیا ہے میں نے عرض کی ہاں۔فرمایا کتنے مال کی۔میں نے عرض کی خدا کی راہ میں سارے مال کی وصیت کرنے کا ارادہ ہے فرمایا۔اپنی اولاد کے لئے تو نے کیا چھوڑا ہے میں نے عرض کی وہ مالدار ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔دسویں حصہ کی وصیت کر۔میں اس مقدار کو کم ہی سمجھتا رہا یعنی زیادہ کا اصرار کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا تہائی کی وصیت کر دے اور تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔ان احادیث سے ثابت ہے کہ حضور علیہ السلام وصیت کرنے کے بارہ میں صحابہؓ کو تاکید فرمایا کرتے تھے اور کہ وصیت زیادہ سے زیادہ ترکہ کے ۱/۳ حصہ تک کی جاسکتی ہے اس سے زیادہ جائز نہیں۔نیز یہ کہ یہ وصیت خدا تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے بارہ میں ہو یا ایسے رشتہ دار یا رشتہ داروں کے حق میں ہو جن کا حصہ قرآن نے مقرر نہیں فرمایا، لیکن ان کی مدد کرنے کو پسند فرمایا ہے۔پس شرعی وارثوں کے حق میں وصیت منع ہے اس لئے اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں اپنے کسی غیر وارث رشتہ دار کے حق میں وصیت کی ہو، لیکن کچھ عرصہ بعد حالات بدل جائیں اور جس شخص کے حق میں وصیت کی گئی تھی وہ شرعی وارث بن جائے تو پھر اس صورت میں وہ وصیت خود بخو دمنسوخ ہو جائے گی۔مثلاً فرض کیجئے رفیق نامی ایک شخص کا ایک بیٹا موجود ہے اور ایک حقیقی بہن۔رفیق نے اپنی زندگی میں وصیت کی کہ اس کی جائداد کا 1/4 حصہ اس کی بہن کو دیا جائے۔( بیٹے کے ہوتے ہوئے بہن وارث نہیں ہوتی ) بقضائے الہی رفیق کا بیٹا فوت ہو گیا تو اس صورت میں بہن شرعی وارث بن گئی اور شرعی وارث کے حق میں وصیت نہیں ہو سکتی اس لئے یہ وصیت اب خود بخود منسوخ ہو جائے گی اور بہن اپنا شرعی حصہ (۱/۲) حاصل کرے گی۔وصیت کرتے وقت قرآن پاک کے اس ارشاد کو ضرور یا درکھنا چاہئے۔مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍ (سورة نساء آیت ۱۳) یعنی وصیت سے کسی کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو۔ایسی وصیت جس سے کسی شرعی وارث یا وارثوں کو نقصان پہنچے ممنوع ہے اور اس کا پورا کیا جانا واجب نہیں۔اسی طرح اگر