اسلام کا وراثتی نظام — Page 46
۴۶ اَفَأُوصِي بِمَا لِى كُلِّهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَثُلُثَى مَالِي قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرُ قَالَ أَقُلْتُ فَالتَّلْتُ قَالَ القُلتُ وَالقُلتُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ اغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِّنْ اَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَن تُنْفِقَ نَفَقَةٌ تَبْتَغِي بِهَاوَجُهَ اللَّهِ إِلَّا أَجِرْتَ بِهَا حَتَّى لُقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ (صحیح بخاری ومسلم ) (مشکوۃ ربع دوم صفحه ۱۲۷۷) حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں میں ایسا سخت بیمار ہوا کہ موت کے کنارے پہنچ گیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں آپ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا دو تہائی مال کی وصیت کر دوں۔آپ نے فرمایا کہ نہیں میں نے عرض کیا کہ آدھے مال کی وصیت کر دوں فرمایا نہیں میں نے عرض کی کیا ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں آپ نے فرمایا ہاں تہائی مال کی۔اور تہائی مال بھی بہت ہوتا ہے۔اگر تو اپنے وارثوں کو خوشحال اور مال دار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو اُن کو مفلس چھوڑے اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں اور تُو جو کچھ خدا کی خوشنودی اور رضا مندی کی خاطر اس کی راہ میں خرچ کرے گا۔تجھے اس کا اجر (ضرور) دیا جائے گا۔یہاں تک کہ تجھے اس لقمہ کا بھی ثواب ملے گا جو تو اپنی بیوی کے مونہہ میں ڈالے۔گویا ورثاء کے لئے مال چھوڑ نا جب کہ رضاء الہی مقصود ہو یہ بھی نیکی ہے۔۲۔یہی حدیث یوں بھی بیان ہوئی ہے۔عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَنَا مَرِيضٌ فَقَالَ أَوْصَيْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِكُمْ قُلْتُ بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ قُلْتُ هُمُ اَغْنِيَاءُ بِخَيْرٍ فَقَالَ اَوْصِ بِالْعُشْرِ فَمَا زِلْتُ أَنَاقِصُهُ حَتَّى قَالَ اَوْصِ بِالثُّلُثِ وَ ( مشکوۃ ربع دوم صفحه ۱۲۷۸) القُلتُ كَثِيرٌ حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ میری علالت کے ایام میں رسول اکرم صلی