اسلام کا وراثتی نظام — Page 261
۲۶۱ میں جو فرق ہو۔وہ محفوظ کردہ حصہ سے پورا کیا جائے۔ان مثالوں میں یہی طریق اختیار کیا گیا ہے۔البتہ ہر مثال میں محفوظ کر دہ حصہ کی تقسیم بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔کیونکہ ابتدائی اور آخری حصوں کے معلوم ہو جانے کے بعد بآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ محفوظ کردہ حصہ میں سے کتنا کتنا کس کس وارث کو ملنا چاہئے تا ہر ایک کا آخری قائم شدہ حصہ پورا ہو جائے۔مثال نمبر ۲: ایک میت نے زوجہ ، والدہ ، چچا اور دولڑکیاں وارث چھوڑے۔زوجہ حاملہ ہے اگر تر که قبل از وضع حمل تقسیم ہو تو ہر ایک وارث کا حصہ بتاؤ۔جب کہ حمل کو لڑ کا تصور کر لیا جائے اور اگر بعد میں لڑکی تولد ہو جائے تو پھر وارثوں کے حصے بتائیے۔قبل از ولادت ورثاء کے حصے زوجہ کا حصہ والدہ کا حصہ ( باقی = 1 - + + + = 1/A = 1/4 = ۲۴ بیٹی کی ولادت کے بعد تقسیم ترکہ زوجہ کا حصہ والدہ کا حصہ تین لڑکیوں کا حصہ حمل کو لڑ کا تصور کیا گیا ہے اس لئے لڑکیاں اس ہر لڑکی کا حصہ = ١/ 1/4 ٢/٣ ٢/٩ = = کے ساتھ عصبہ بن جائیں گی۔لہذا حمل ( لڑکے ) کا محفوظ حصہ ۱۷ ۴۸ ۱۷ 1⁄4 = 1 × 1 = ㅎ ہر ایک لڑکی کا حصہ = x = ۲۴ ۱۷ ۹۶ باقی = ( + + + +) - 1 = ۲۴ = ۱۶+۴+۳ - 1 = ۲۴ جو چا کا حصہ ملے گا۔یعنی محفوظ کئے گئے حصے (۱۷/۴۸) میں سے ۲/۹ حصہ نوزائیدہ بیٹی کو ۱۳/۲۸۸۔حص پہلے سے موجود ہر بیٹی کو اور ۱/۲۴ حصہ چچا کو ملا۔اور پہلی دونو لڑکیوں میں سے ہر ایک کا کل حصہ لا ۹۶ مثال نمبر ۳ : ۱۳ + ۲۸۸ = ۱۳۵۱ = = = بن گیا۔۲۸۸ ۶۴ ۲۸۸ ایک میت نے زوجہ ، والد اور بیٹے کی بیوہ (جو ایام حمل گزار رہی ہے ) وارث چھوڑے حمل کو لڑ کا تصور کر کے ورثاء نے ترکہ تقسیم کر لیا۔اگر بعد میں لڑکی پیدا ہوئی ہو تو