اسلام کا وراثتی نظام — Page 198
= اخیافی چچا کے بیٹے کا حصہ اخیافی چا کی ہر ایک بیٹی کا حصہ = مادری سلسلہ کا حصہ حقیقی ماموں کی بیٹی کا حصہ = حقیقی خالہ کے بیٹے کا حصہ ۱۹۸ 7|27|2 2/2-2 -L + # = + x + = امام ابو یوسف کے اصول کے مطابق جو حصے بنتے ہیں وہ یہ ہیں۔زوجہ کا حصہ 1/ = اخیافی چچا کے ہر بیٹے بیٹی کا حصہ حقیقی ماموں کی بیٹی کا حصہ حقیقی خالہ کے بیٹے کا حصہ 1/4 = = 1/4 = مثال نمبر ۳ : ایک میت نے اپنے حقیقی چا سعید کی پوتی اور حقیقی چا حمید کی نواسی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔حقیقی چچا حقیقی چچا سع اس مثال میں صرف پدری رشتہ دار موجود ہیں اس لئے کل جائداد ان میں تقسیم ہوگی۔درمیانی مورثوں میں پہلی پشت میں اختلاف واقع ہوتا ہے بیٹے کی وساطت سے صرف ایک دعویدار ہے اس لئے یہ ایک مرد یا دو عورتیں تصور ہوگا اور بیٹی کی وساطت سے بھی ایک ہی دعویدار ہے اس لئے یہ ایک ہی عورت تصور ہوگی۔اس لئے بیٹے کو ۲/۳ اور بیٹی کو ۱/۳ ملے گا جو کہ بیٹے کی بیٹی کو اور بیٹی کی بیٹی کو بالترتیب مل جائے گا۔امام ابو یوسف