اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 199 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 199

١٩٩ کے اصول کے مطابق دونوں یعنی سعید کی پوتی اور حمید کی نواسی کو ۱/۲، ۱/۲ حصہ ملے گا۔مثال نمبر ۴ : ایک میت نے اپنے دو حقیقی چچاؤں زید و بکر کی اولاد جو نقشہ میں ظاہر ہے اپنے وارث چھوڑے اور حقیقی پھوپھی کے نواسے کی بیٹی بھی ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔حقیقی چچا زید کلازید حقیقی چا بکر بیٹا حقیقی پھوپھی بیٹا 3:- بیٹا بیٹی نقشہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سب وارث ایک ہی قوت قرابت رکھنے والے ہیں یعنی حقیقی چاؤں اور حقیقی پھوپھی کی اولاد ہیں مگر زید کے بیٹے کا بیٹا عصبہ ہے اس لئے اس کی بیٹی عصبہ کی اولاد ہے۔بکر کے بیٹے کی بیٹی ذی رحم ہے اس لئے اس کی اولا دزی رحم کی اولاد ہے۔اسی طرح پھوپھی کی بیٹی کے بیٹے کی بیٹی بھی ذوی الارحام کی اولاد ہے اب عصبہ کی اولا دکو ذوی الارحام کی اولاد پر فوقیت حاصل ہے۔اس لئے حقیقی چچا زید کے بیٹے کے بیٹے کی بیٹی تمام تر کہ حاصل کرے گی اور دوسرے تمام دعویدار با وجود ایک ہی درجہ اور ایک ہی قوت قرابت رکھنے کے محروم ہوں گے۔امام ابو یوسف کے اصول کے مطابق ان کے حصے بالترتیب ۱/۵ ، ۲/۵، ۱/۵ اور ۱/۵ ہوں گے۔مثال نمبر ۵ ایک میت نے نقشہ کے مطابق اپنے یہ وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔