اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 191 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 191

=x ۳۵ ۲ اور ۱۹۱ صرف ایک بیٹا دعویدار ہے اس لئے وہ ایک ہی عورت شمار ہوگی۔= لہذا ۶/۲۱ حصہ میں سے بیٹے کا حصہ اور ۶/۲۱ حصہ میں بیٹی کا حصہ اب بیٹے کا ۸/۳۵ حصہ اس کی دو اولادوں میں یعنی بیٹے اور بیٹی میں = ۱۰۵ ۱۶ = = نسبت سے تقسیم ہو گا۔پس علاقی بھانجے کے بیٹے کا حصہ علاقی بھانجے کی بیٹی کا حصہ نوٹ : امام ابو یوسف کے اصول کے لحاظ سے جائداد علاتی زمرے میں تقسیم ہو گی۔اور اخیافی زمرہ بالکل محروم رہے گا۔اس لحاظ سے حصے یہ ہوں گے۔علاقی بھیجی کے بیٹے کا حصہ علاقی بھتیجی کی بیٹی کا حصہ علاقی بھانجے کے بیٹے کا حصہ علاقی بھانجے کی بیٹی کا حصہ علاقی بھانجی کے بیٹے کا حصہ : = = = V/C = /^ = I/A = = ۱/۴ - ۲/۸ ذوی الارحام کا چوتھا درجہ اگر پہلے دوسرے اور تیسرے درجہ کے ذوی الارحام میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو ترکہ چوتھے درجہ کے ذوی الارحام میں تقسیم ہوتا ہے۔ان کی ترتیب تو ریث یہ ہے:۔قسم نمبر 1: متوفی کے وہ چا، پھوپھیاں، ماموں اور خالائیں جو عصبات میں شمار نہ ہوں (اس لحاظ سے اس نمبر میں حقیقی اور علاتی چچا شامل نہیں کیونکہ وہ عصبہ ہیں ) قسم نمبر ۲: متوفی کے چچاؤں، پھوپھیوں ، ماموؤں اور خالاؤں کی اولاد (خواہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کی ہو لیکن ان میں متوفی کے حقیقی اور علاقی چاؤں کی نرینہ اولا د شامل نہ ہو گی