اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 192 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 192

۱۹۲ کیونکہ وہ عصبات میں شامل ہے۔قسم نمبر ۳: قسم نمبر ۴ : متوفی کے والدین کے چا اور ماموں جو باپ کے حقیقی اور علاتی چچاؤں کے علاوہ ہوں۔متوفی کے والدین کے چاؤں، ماموؤں ، پھوپھیوں اور خالاؤں کی اولا د خواہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کی ہو ، لیکن ان میں باپ کے حقیقی اور علاتی چچاؤں کی نرینہ اولا د شامل نہ ہو گی۔کیونکہ وہ عصبات میں داخل ہے۔قسم نمبر ۵: دادا اور دادی کے چچا اور ماموں اور جو دادا کے حقیقی یا علاتی چچا اور ماموں نہ ہوں کیونکہ وہ عصبات ہیں۔قسم نمبر ۶: دادا، دادی کے چچاؤں، ماموؤں، پھوپھیوں اور خالاؤں کی اولا دخواہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کی ہو۔لیکن دادا کے حقیقی اور علاتی چچاؤں کے بیٹوں کی اولاد ان میں شامل نہ ہو گی۔( کیونکہ وہ عصبات ہیں ) قسم نمبر ے: بعید کے چچا، ماموں، پھوپھیاں اور خالائیں اور پھر ان کی اولادیں اسی ترتیب اور طریقے سے (بشرطیہ وہ عصبات میں شامل نہ ہوں )۔چوتھے درجہ کے ذوی الارحام میں میراث تقسیم کرتے وقت حسب ذیل قواعد پر عمل کیا جاتا ہے۔الاقرب ثم الا قرب یعنی قریب تر بعید تر کو محروم کر دیتا ہے۔اس لحاظ سے ہر قسم ( زمرے) کے دعویداروں میں حقیقی کو علاقی پر اور علاقی کو اخیافی پر ترجیح دی جائے گی۔اسی طرح ایک قسم کے تمام ارکان کے ختم ہو جانے کے بعد ہی کسی دوسری قسم کے ارکان کو میراث پہنچے گی۔