اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 151 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 151

۱۵۱ + = -1 = باقی یہ (۱/۳) عصبہ میں تقسیم ہوگا جو یہاں دو پڑ پوتے ہیں۔اس لئے ہر پڑپوتے کا حصہ = * یعنی اگر جائداد کے ۱۸ سہام کئے جائیں تو ۴ سہام ہر پوتی کو اور تین سہام ہر پڑ پوتے کوملیں گے۔مثال نمبر ۱۶ ایک میت نے ایک زوجہ، ایک بیٹی ، ایک پوتی ، ایک پڑپوتا اور ایک پڑپوتی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔زوجہ ، بیٹی اور پوتی ذوی الفروض ہیں۔پڑپوتا اور پڑپوتی عصبہ ہیں۔١/٨ 1/F = = 1/4 = زوجہ کا حصہ بیٹی کا حصہ پوتی کا حصہ A= ( ۲۴ باقی = 1 + + + + + =۱ - ۱۲+۲+۳ = ۲۴ یہ ۲۴/ ۵ حصہ عصبات میں دو اور ایک کی نسبت سے تقسیم ہو گا۔اس لئے پڑپوتے کا حصہ پڑپوتی کا حصہ = * = 1 × 00 = ۲۴ گویا اگر جائداد کے ۷۲ حصے کئے جائیں تو ۹ حصے زوجہ کے، ۳۶ بیٹی کے ۱۲ پوتی کے ۱۰ پڑپوتے کے اور پانچ پڑپوتی کے ہوں گے۔نوٹ :۔بیٹی صرف ایک ہے اس لئے ہوتی یا پوتیاں بطور ذوی الفروض کے ۱/۶ کی وارث ہوں گی۔کیونکہ ان کے ذوی الفروض میں شامل ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں۔اس لئے یہاں یہ پڑپوتے کے ساتھ جو اس سے ایک درجہ نیچے ہے۔عصبہ نہ بنیں گی۔بلکہ بیٹی کے حصے ۱/۲ میں ۱/۲ جمع کر کے ۲/۳ بنا ئیں گی۔مثال نمبر۱۷: ایک میت نے دو بیٹیاں، ایک پوتی اور ایک پڑپوتا وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ