اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 150 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 150

۱۵۰ ۲۔پوتے اور پوتیاں (خواہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کی ہوں ) : مثال نمبر ۱۳: ایک میت نے دو پوتے اور تین پوتیاں وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ اور حیثیت بتاؤ۔جب پوتا موجود ہو تو ہوتی ذوی الفروض نہیں ہوتی عصبہ ہوتی ہے۔اس لئے دونوں بطور عصبہ حصہ پائیں گے اس طرح کہ پوتا پوتی کی نسبت دگنا حصہ لے گا۔اس لئے اگر جائداد کے کے سہام کئے جائیں تو ہر پوتا دوسہام کا اور ہر پوتی ایک سہم کی وارث ہوگی۔مثال نمبر ۱۴: ایک میت نے ایک بیٹی ، ایک پوتا، ایک پوتی اور ایک پڑپوتی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ اور حیثیت بتائیے۔بیٹی کا حصہ باقی ۱/۲ بطور ذوی الفروض + = = - 1 = یه (۱/۲احصہ) پوتے اور پوتی میں بطور عصبہ ۲ اور ا کی نسبت سے تقسیم ہوگا اور پڑپوتی محروم ہو گی۔اس لئے پوتے کا حصہ پوتی کا حصہ = += + x + = یعنی اگر جائداد کے ۶ سہام کئے جائیں تو ۶ سہام بیٹی کو دو پوتے کو اور ایک پوتی کو ملے گا۔نوٹ : پوتی۔پوتے کی موجودگی میں عصبہ قرار پائے گی۔ذوی الفروض میں شمار نہیں ہوسکتی۔مثال نمبر ۱۵: ایک میت نے تین پوتیاں اور دو پڑ پوتے چھوڑے ہر ایک کا حصہ مع حیثیت بتائیے۔تین پوتیاں ذوی الفروض ہیں اور پڑپوتے عصبہ ہوں گے۔اگر پوتیوں کے علاوہ کوئی اور ذوی الفروض ہوتا تو پھر یہ بھی پڑپوتے کی وجہ سے عصبہ بن جاتیں۔موجودہ صورت میں یہ ذوی الفروض ہیں کیونکہ ان کے ذوی الفروض بنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔اس لئے تین پوتیوں کا حصہ = ۲/۳ ہر ایک پوتی کا حصہ = ۲/۹