اسلام کا وراثتی نظام — Page 131
۱۳۱ اس ۵/۶ میں سے پہلے ذوی الفروض کو ان کے حصے دیئے جائیں گے پھر جو اس سے بچے گا وہ عصبات کو ملے گا۔= = = اس لئے دو بیویوں کا حصہ ۲۰+۱۵ 1۔+10 - 0 = ( 24 + 2) - %/ ۶ ۳۶ ۱۴۴ ۸۵/۱۴۴ - ۳۵ -۱۲۰ ۱۴۴ = ایک بیوی کا حصہ والدہ کا حصہ باقی = || یه (۸۵/۱۴۴ حصہ ) عصبات (لڑکے، لڑکیوں) میں ۲ اور ا کی نسبت سے تقسیم ہو گا۔میت کے چھ بیٹوں میں سے بڑا بیٹا فوت ہو چکا ہے۔اس طرح اس کے ۵ بیٹے اور سات بیٹیاں موجود ہیں اس لئے باقی ماندہ جائداد یعنی ۸۵/۱۴۴ کے سترہ حصے کئے جائیں گے جن میں سے ہر بیٹے کے دو حصے اور ہر بیٹی کا ایک حصہ ہوگا۔ہر بیٹے کا حصہ ہر بیٹی کا حصہ الله = 2 × الله ۸۵ ۱۴۴ ا حصہ ( وصیت کردہ) دونوں یتیم پوتوں میں تقسیم ہو گا۔اس لئے ہر پوتے کا حصہ لہذا ہر بیوی کا حصہ ہر لڑکے کا حصہ # = ۱۴۴ والدہ کا حصہ = ۱۴۴ ہرلڑکی کا حصہ = ۱۴۴ = اور ہر پوتے کا حصہ یعنی اگر جائداد کے کل ۲۸۸ سہام کئے جائیں تو پندرہ سہام ہر بیوی کے چالیس والدہ کے ہیں ہر لڑکے کے دس ہر لڑکی کے اور ۲۴ سہام ہر پوتے کے ہوں گے پس اگر متوفی کی جائداد کی مالیت ۲۸۸۰۰ روپے ہو تو ۱۵۰۰ روپے ہر بیوی کے ۴۰۰۰ روپے والدہ کے ۲۰۰۰ روپے