اسلام کا وراثتی نظام — Page 72
۷۲ أَعْطَيْتُ ابْني مِنْ حَمْرَةً بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً فَأَمَرَتْنِيو أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُول اللَّهِ قَالَ أَعْطَيْتَ سَائِرَوَلَدِكَ مِثْل هَذَا قَالَ لَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّقُوا الله وَاَعْدِ لُوْا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ قَالَ فَرَجَعَ ( صحیح بخاری کتاب الهبة ) فَرَدَّ عَطِيَّةٌ۔حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کچھ عطیہ دیا تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں راضی نہیں ہوں۔جب تک تم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بناؤ جس پر وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں نے اپنے بیٹے کو جو عمرہ بنت رواحہ کے بطن سے ہے کچھ عطیہ دیا ہے۔اور عمرہ کہتی ہے کہ میں آپ (رسول اللہ ) کو گواہ بناؤں۔آپ نے دریافت فرمایا کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو اسی قدر دیا ہے۔انہوں نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا۔اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔حضرت نعمان کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے دی ہوئی چیز واپس لے لی۔“ اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کو بہر صورت اپنی اولا د اور بیویوں (اگر) ایک سے زائد ہوں ) کے درمیان انصاف قائم رکھنا چاہئے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا چاہئے۔جو لوگ احکام شریعت پر عمل نہیں کرتے اور اپنے کسی بھی وارث کو اس کا شرعی حصہ دینے سے گریز کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لیتے ہیں۔چنانچہ مروی ہے۔وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَرَّ مِنْ مِّيْرَاتِ وَارِثِهِ قَطَعَ اللَّهُ مِيَرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔(ابن ماجہ۔ابواب الوصايا ) حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنے وارث کی میراث سے بھاگے (یعنی مرتے وقت ایسی تدبیریں کرے کہ وارثوں کو ان کا مفروضہ حصّہ نہ ملے ) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جنت کی میراث نہ دے گا۔