اسلام کا وراثتی نظام — Page 71
اے یا روکنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں وہ وراثت کا حصہ اپنے ساتھ نہ لے جائیں۔خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب سے بہت ڈرنا چاہئے اور وہی کچھ کرنا چاہئے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور جو سنت نبوی سے ثابت ہے کہ اسی میں بنی نوع انسان کی بہتری اور فلاح مضمر ہے۔ایک عورت شریعت کی حدود و قیود کے اندر رہ کر یکے بعد دیگرے جتنے نکاح چاہے کر سکتی ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس وجہ سے اسے اس کے شرعی حصہ میراث اور حق مہر سے محروم کرے بیوگی میں رہ کر اپنی جوان عمر گزارنے کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا نیز اللہ تعالیٰ کی رضا اس کے احکام کی فرمانبرداری کرنے میں ہے نہ کہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے میں اور فطرتی تقاضوں کو کچل دینے میں۔دوسری شادی نہ کرنا یا نہ کروانا۔ہندوؤں کی رسم ہے جس سے مسلمانوں کا کوئی واسطہ نہیں اس لئے اسے ترک کر کے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں کے تحت زندگی گزارنی چاہئے اور اس کی رضا کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے۔-۲- میلان طبع یا رغبت بعض دفعہ ایک شخص جس کی ایک سے زیادہ ( چار تک ) بیویاں ہوں کسی خاص بیوی کی طرف بہت جھک جاتا ہے۔انصاف کا پیمانہ اپنے ہاتھ سے چھوڑ دیتا ہے جس کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اور اپنی اس چہیتی بیوی کو یا اس کی اولاد کو دوسروں کی نسبت اپنی زندگی میں بذریعہ ہبر یا کسی اور طریقے سے زیادہ دے دیتا ہے یا دینا چاہتا ہے اور دوسری بیویوں کو نقصان پہنچاتا ہے جن کی طرف اسے رغبت کم ہے یا ہے ہی نہیں ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس بات کی اجازت نہیں دیتے تمام بیویاں مساوی طور پر خاوند کے یا ترکہ کی وارث ہیں نیز کسی شرعی وارث کے حق میں وصیت بھی نہیں ہو سکتی۔اس لئے کسی بھی وارث کو اس کے شرعی حصے سے زیادہ نہیں دیا جا سکتا۔چنانچہ اس سلسلہ میں دو عن احادیث درج ذیل ہیں:۔النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةٌ فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِئْتُ رَوَاحَةَ لَا ارْضى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ إِنِّي