اسلام کا وراثتی نظام — Page 60
لیکن ہمارے بعض کو تاہ اندیش اور متعصب قسم کے مولویوں نے اس حدیث کو اسلام میں ہی مسلمانوں پر چسپاں کر دیا۔اور اختلاف دین سے مراد انہوں نے اختلاف جماعت یا فرقہ لے کر ایک فرقے کے ممبروں کو دوسرے فرقے کے ممبروں کی میراث سے محروم کرنے کا فتوے صادر کر دیا۔حالانکہ ایک مسلمان کہلانے والا وارث اپنے مسلمان کہلانے والے مورث کی جائداد سے کس طرح محروم ہو سکتا ہے اگر وہ کچھ بھی صحیح سوچتے تو انہیں علم ہو جاتا کہ یہاں اختلاف دین سے مراد عناد کی حد تک بڑھا ہوا اختلاف مذہب ہے نہ کہ اختلاف فرقہ اہل السنت والجماعت شعیه ، شافعی ، حنبلی، دیوبندی، چکڑالوی اور احمدی یہ تمام مذہب اسلام کے مختلف فرقے یا جماعتیں ہیں۔یہ مذاہب ( یا ادیان ) نہیں۔اس لئے مذہب اسلام کے ان فرقوں کے پیروکار ایک دوسرے کی میراث کے حق سے اس حدیث کی رو سے ہرگز ہر گز محروم نہیں کئے جا سکتے۔۴۔موت کے وقت کا معلوم نہ ہونا میراث سے محروم ہونے کا ایک باعث یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگوں کی وفات بیک وقت ہو اور ان کی موت کے بارہ میں یہ معلوم نہ ہو سکے کہ کون پہلے فوت ہوا اور کون بعد میں ایسے حالات حادثات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً فرض کیجئے کہ ایک باپ مع اپنی بیوی دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے کشتی کے ذریعہ دریا پار کر رہا تھا کہ اچانک کشی الٹ گئی اور وہ تمام غرق ہو گئے چونکہ یہ سب ایک ساتھ ہی دریا میں جا گرے اس لئے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کون پہلے فوت ہوا اور کون بعد میں۔اسی طرح فرض کرو کہ ایک ہی خاندان کے کچھ افراد جو ایک ہی کمرہ میں تھے اچانک اس کمرہ کی چھت گرنے سے ایک ساتھ ہی فوت ہو گئے ان حالات میں ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ گویا یہ تمام لوگ ایک ہی ساتھ وفات پا گئے ہیں۔پس ایسے وفات یافتہ لوگوں میں سے کوئی شخص بھی کسی دوسرے شخص کا وارث نہیں ہو گا۔لہذا وقت موت کا معلوم نہ ہوسکنا بھی مانع میراث ہے۔ہاں اگر کسی شخص کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ وہ حادثہ میں شامل بعض اشخاص سے بعد میں فوت ہوا ہے تو وہ اپنے سے پہلے فوت ہونے والے افراد کے موجودہ ورثاء میں شامل ہو گا۔جن میں تمام تر کہ بعد منہائی ضروری