اسلام کا وراثتی نظام — Page 40
۴۰ اخراجات بیت المال سے ادا ہونے چاہئیں، لیکن اگر کوئی بیت المال وغیرہ قائم نہیں تو پھر یہ رقم اہالیان محلہ ، قصبہ یا شہر سے جمع کر لی جائے اور تجہیز و تکفین کر دی جائے۔۲۔قرض اگر مرنے والے کے ذمہ کچھ قرض ہو تو تجہیز و تکفین کے اخراجات کے بعد جو کچھ باقی بچے اس میں سے سب سے پہلے یہ قرض ادا کیا جائے۔جیسا کہ سورۃ النساء آیت نمبر ۱۳ میں ارشاد ہے۔سوال ہو سکتا ہے کہ قرآن پاک میں تو پہلے وصیت کا ذکر ہے پھر دین یعنی قرض کا، لیکن عملاً پہلے قرضہ ادا کیا جاتا ہے اور پھر موصی کی وصیت کو پورا کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں سے ہی وصیت کر سکتا ہے۔کسی دوسرے کے مال کے بارہ میں وصیت نہیں کر سکتا۔اب اگر ایک شخص پانچ ہزار روپے چھوڑ کر فوت ہوتا ہے اور اس نے زید کا ایک ہزار روپیہ قرض بھی دینا ہے تو اصل میں اس نے اپنے پیچھے صرف چار ہزار روپے چھوڑے ہیں اور وہ ان چار ہزار روپے کے بارہ میں ہی وصیت کر سکتا تھا زید کے ایک ہزار روپے کے بارہ میں وصیت کرنے کا مجاز نہیں تھا۔اس لئے قرض کی ادا میکی وصیت پر مقدم ہے اور یہ بات سنت وحدیث سے بھی ثابت ہے۔وَعَنْ عَلِيِّ أَنَّهُ قَالَ إِنَّكُمْ تَقْرَؤُنَ هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُؤْصُونَ بِهَا أَوْدَيْنٍ وَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَإِنَّ اَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَرِثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاهُ لَا بِيْهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لَابِيهِ b ( ترمذی۔ابواب الفرائض باب ۵) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک روز لوگوں سے کہا کہ تم اس آیت کو پڑھتے ہو مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ جس میں قرض سے پہلے وصیت کا ذکر ہے۔لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ آپ وصیت سے پہلے قرض کو ادا کرنے کا حکم دیتے تھے۔اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ حقیقی بھائی ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں۔ان کے ہوتے ہوئے سوتیلے بھائی وارث نہیں ہوتے۔اس حدیث سے