اسلام کا وراثتی نظام — Page 41
ظاہر ہے کہ وصیت پر عمل کرنے سے پہلے قرض کی ادائیگی ضروری ہے۔ویسے بھی انسان کو اپنے قرضے اپنی زندگی میں ہی ادا کرنے کی اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگنی اور پوری پوری کوشش کرنی چاہئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ آپ ان اشخاص کا جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جن کے ذمہ قرضہ ہو اور ان کا ترکہ اس قرضہ کی ادائیگی کا متحمل نہ ہو سکتا ہو۔چنا نچہ صحیح بخاری میں ہے۔عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِندَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا صَلَّ عَلَيْهَا فَقَالَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوْا لَا قَالَ فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا قَالُوا لَا فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بجَنَازَةٍ أُخْرى فَقَالُوا يَارَسُوْلَ اللهِ صَلَّ عَلَيْهَا قَالَ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقِيلَ نَعَمُ قَالَ فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا قَالُوا ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ أتِيَ بِالثَّالِثَةِ فَقَالُوا صَلّ عَلَيْهَا قَالَ هَلْ تَرَكَ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ فَهَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوا ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبَكُمْ قَالَ اَبُوْ قَتَادَةَ صَلِّ عَلَيْهِ يَارَسُولَ اللَّهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ ( صحیح بخاری کتاب حوالات ) حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا۔لوگوں نے کہا حضور اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔آپ نے دریافت فرمایا کیا اس پر کوئی قرض ہے لوگوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا کیا اس نے مال چھوڑا ہے، لوگوں نے کہا کہ نہیں پھر آپ نے اس کی نماز پڑھا دی۔اس کے بعد دوسرا جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیں آپ نے فرمایا کیا اس پر کوئی قرض ہے لوگوں نے کہا ہاں حضور آپ نے دریافت فرمایا کیا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے لوگوں نے کہا! تین اشرفیاں پس آپ نے نماز جنازہ پڑھا دی۔اس کے بعد تیسرا جنازہ لایا گیا اور حضور کی خدمت میں عرض کی گئی کہ حضور اس کا جنازہ پڑھا دیں آپ نے دریافت فرمایا کیا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے ( لوگوں نے جواب دیا ) حضور نہیں آپ نے فرمایا کیا اس کے ذمہ کچھ قرض ہے لوگوں نے کہا ہاں تین