اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 26 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 26

۲۶ حاضر ہوئیں اور سارا واقعہ بیان کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی تسلی دیکر صبر کرنے کو کہا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب اس کا فیصلہ فرما دیں گے۔کچھ دنوں کے بعد حضرت سعد کی بیوی دوبارہ حاضر ہوئیں اور اپنے حالات سنائے۔حضور پہلے ہی تقسیم کے بارہ میں ہدایت کے منتظر تھے۔چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی :- يُوصِيكُمُ اللهُ فِى اَوْلادِكُمُ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ۚ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَاتَرَكَ ۚ وَ إِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلَا بَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِنْ لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَّ وَرِثَةَ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ القُلْتُ ۚ فَإِنْ كَانَ لَهُ اِخْوَةٌ فَلُامِهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنِ (سوره نساء آیت ۱۲) اللہ تمہاری اولاد کے متعلق تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے اور اگر اولا دعورتیں ہی عورتیں ہوں جو دو سے اوپر ہوں تو ان کے لئے بھی جو کچھ اس مرنے والے نے چھوڑا ہو اس کا دو تہائی (۲/۳) مقرر ہے اور اگر ایک ہی عورت ہو تو اس کے لئے (ترکہ کا ) آدھا ہے اور اگر اس مرنے والے کے اولاد ہو تو اس کے ماں باپ کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے ترکہ میں سے چھٹا حصہ مقرر ہے اور اگر اس کے اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا تیسرا حصہ مقرر ہے، لیکن اس کے بھائی بہن موجود ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ مقرر ہے۔یہ سب حصے اس کی وصیت اور اس کے قرض کی ادائیگی کے بعد ادا ہوں گے۔(تفسیر صغیر ) رض سو اس حکم کی تعمیل میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اوس کے بھائیوں کو کہلا بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے جائداد میں عورتوں کا حصہ معین طور پر مقررفرما دیا ہے اس لئے تم ۲/۳ اوس کی بچیوں کو اور ۱/۸ حصہ اس کی زوجہ کو دے دو اور باقی مال تمہارا حصہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ذوی الفروض کو حصہ دلانے کے بعد جو کچھ باقی بچا وہ میت کے قریبی رشتہ دار کو جو اس صورت میں عصبہ ( میت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار یعنی چچا) کو دلوایا اور ہر قسم کے دیگر طریقے منسوخ ہو گئے۔