اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 287 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 287

۲۸۷ ② دوسری دلیل جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دادا کے ترکہ میں پوتا بھی حصہ دار ہے یہ آیت کریمہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يُوصِيكُمُ اللهُ فِى اَوْلَادِكُمُ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ۚ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَاتَركَ وَ إِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلَاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِنْ لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَّ وَرِثَةٌ اَبَوَاهُ فَلأُمِّهِ الثَّلث ( سوره نساء آیت ۱۲) یہ آیت جس طرح باپ اور بیٹے کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیتی ہے بعینہ اسی طرح یہ دادے اور پوتے کو بھی ایک دوسرے کا وارث قرار دیتی ہے۔اسی لئے جب باپ موجود نہ ہو دادا پوتے کے ترکہ میں باپ کا قائم مقام ہو کر اس کا شرعی حصہ بمطابق حالات حاصل کرتا ہے۔دوسرے عربی زبان میں یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ والد اور اب کا اطلاق جس طرح باپ پر ہوتا ہے اسی طرح دادے پر بھی ہوتا ہے جس طرح ولد اور ابن کا لفظ بیٹے کے لئے بولا جاتا ہے اسی طرح پوتوں پڑ پوتوں وغیرہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے سو اس آیت میں صرف ولد“ کے معنے کیوں محدود کئے جائیں جب کہ حالات کے مطابق اس لفظ میں پوتے یا ان سے نیچے پڑپوتے وغیرہ بھی شامل کر لئے جاتے ہیں۔”اب“ کا لفظ تو ہم دادا اور پڑدادا وغیرہ سب کے لئے استعمال کریں اور اس بناء پر باپ کی عدم موجودگی میں دادا وغیرہ کو وارث قرار دے دیں، لیکن جب یتیم پوتے کا سوال آئے تو لفظ ” ولد“ کو اس کی میراث میں روک قرار دے دیں اور کہیں کہ پوتا ولد“ میں شامل نہیں سمجھا سکتا۔ولد کے بھی اسی طرح لغوی اور شرعی معنے لینے چاہئیں جس طرح آپ کے لئے جاتے ہیں اور یتیم پوتے کو بھی اپنے باپ کا قائمقام سمجھتے ہوئے اُسی طرح سے دادا کے ورثا میں سے بیٹا کا حصہ دینا چاہئے جس طرح کہ دادا اپنے بیٹے کا قائمقام ہو کر پوتے کے ترکہ میں والد کا حصہ 66 " 66 حاصل کرتا ہے۔شریعت اسلامیہ میں یہ بات مسلمہ ہے کہ دادے کو باپ کا مقام حاصل ہے۔تو پھر کیا ان حالات میں یہ ضروری نہیں کہ یتیم پوتے کو بھی بیٹے کا مقام حاصل ہو۔جہاں