اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 223 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 223

۲۲۳ الفروض پر رڈ نہ کیا جائے بلکہ باقی ماندہ تر کہ تمام کا تمام بیت المال میں داخل ہونا چاہئے۔یہی مسلک امام مالک اور امام شافعی کا ہے۔حنفی علما اپنے مسلک کی تائید میں اس حدیث سے استدلال کرنے ہیں۔اَلْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ (ابوداؤد) دد یعنی جس کا اور کوئی وارث موجود نہیں تو ( پھر ) ماموں اس کا وارث ہے۔“ اس حدیث سے تین باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔اول : ذوی الارحام کو میراث کا پہنچنا۔جس کا ذکر پچھلے باب میں ہو چکا ہے۔دوم یہ کہ ذوی الارحام کو بھی ورثہ ملے گا۔جب اور کوئی وارث نہ ہو۔ورنہ اگر کوئی عصبہ موجود ہو تو متروکہ اسے مل جاتا ہے۔ماموں تک نہیں پہنچتا۔سوم جب کوئی عصبہ موجود نہ ہو تو ذوی الفروض کو اُن کے مقررہ حصے دینے کے بعد جو مال بچے وہ ذوی الارحام کو نہیں مل سکتا کیونکہ ذوی الارحام کو اسی وقت میراث پہنچتی ہے جب اور کوئی وارث نہ ہو اور یہاں ذوی الفروض موجود ہیں۔پس ان کے مقررہ حصوں سے زائد مال بھی انہیں کے درمیان تقسیم ہو گا۔اور اسی کو رڈ کہتے ہیں سو اس حدیث سے واضح ہے کہ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں جو بعد میں بنالیا گیا ہو۔اب ہم ایسی مثالیں لیتے ہیں جس میں رڈ کی ضرورت پیش آتی ہے اور پھر یہ کہ کس طرح اسے حل کیا جا سکتا ہے۔مثال نمبر 1: ایک میت نے والدہ ، دوا خیافی بہنیں وارث چھوڑیں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔1/4 = ۱/۳ = = = = 1+1 = والدہ کا حصہ دوا خیافی بہنوں کا حصہ ورثاء کا کل حصہ = اس صورت میں آدھی جائداد بچ جاتی ہے۔اب یہ ۱/۲ جائداد بھی والدہ اور دو اخیافی بہنوں کو ان کے حصہ کی نسبت کے لحاظ سے یعنی ۱/۶ : ۱/۳ = ۱ : ۲ سے رڈ ہوگی۔یعنی