اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 193 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 193

۱۹۳ ۲۔اگر دعویداران میراث میں صرف پدری یعنی باپ کی طرف کے ) رشتہ دار ہی ہوں یعنی صرف اخیافی چا یا صرف اخیافی پھوپھیاں یا اخیافی چچا اور اخیافی پھوپھیاں (دونوں) تو پھر ان کے درمیان تمام جائداد برابر برابر تقسیم ہوگی۔اگر دعویداری میں صرف مادری ( یعنی ماں کی طرف کے ) رشتہ دار موجود ہوں یعنی صرف ماموں ، یا صرف خالائیں یا ماموں اور خالائیں دونوں تو پھر تمام جائدادان میں ہی حسب قواعد تقسیم ہوگی۔اگر دعویداران میراث میں پدری اور مادری دونوں قسم کے رشتہ دار موجود ہوں تو پھر مجموعی طور پر پدری رشتہ داری کو جائداد کا ۲/۳ حصہ اور مادری رشتہ داروں کو ۱/۳ حصہ ملے گا اور ان کا ہر گروہ اپنا مجموعی حصہ اس طور سے تقسیم کرے گا کہ مرد کو عورت سے دُگنا حصہ ملے۔سوائے اخیافی قسم کے رشتہ داروں کے جن کے درمیان برابر برابر تقسیم ہوگی۔نوٹ: یادر کھیئے کہ کوئی بھی پدری رشتہ دار کسی بھی مادری رشتہ دار کی وجہ مجوب نہیں ہوتا اسی طرح کوئی بھی مادری رشتہ دار کسی بھی پدری رشتہ دار سے محجوب نہیں ہوتا۔یہ دونوں سلسلے علیحدہ علیحدہ اپنا مفروضہ حصہ حاصل کرتے ہیں۔اگر ایک سلسلہ کے افراد میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر تمام جائداد کے مالک دوسرے موجو د سلسلہ کے لوگ ہوں گے۔یہ بھی خیال رکھیئے کہ حقیقی چا، علاتی چچا اور ان کی اولادیں (یعنی ان کے بیٹے ) عصبات میں شامل ہیں اس لئے اس جگہ پر ان کا ذکر نہیں آئے گا۔ویسے ان میں سے اگر کوئی فرد موجود ہو تو ہر قسم کے ذوی الارحام محروم ہو جائیں گے۔امام ابو یوسف کا اصول چاؤں ، ماموؤں اور پھوپھیوں اور خالاؤں کی تو ریث کے متعلق امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔چاؤں، پھوپھیوں ، خالاؤں اور ماموؤں کی اولاد میں تقسیم وراثت کے بارے میں ان دونو اماموں میں صرف اس قدر اختلاف ہے کہ امام ابو یوسف کے نزدیک جو حصہ پدری اور مادری رشتہ داروں کو دیا جائے وہ دعویداروں میں جالراس