اسلام کا وراثتی نظام — Page 183
۱۸۳ اب ۶/۹ حصہ بھائی کی تین بیٹیوں میں برابر تقسیم ہو گا اس لئے متوفی کی ہر بھتیجی کا حصہ = = = = X اور ۳/۹ حصہ بہن کی اولاد میں تذکیر و تانیث کے لحاظ سے تقسیم ہوگا۔اس لئے بھانجے کا حصہ ہر ایک بھانجی کا حصہ = ** += = + x = اگر متوفی کی جائداد ۳۶۰۰ روپے کی مالیت کی ہو تو ہر بھتیجی کا حصہ ہر بھانجی کا حصہ بھانجے کا حصہ = 1/15 x Fyoo = ۳۶۰۰ × ۲/۹ = ۸۰۰ روپے = = 1/4 x 400 ۳۰۰ روپے = ۲۰۰ روپے نوٹ: یہ بھتیجیاں ایک ہی بھائی کی بیٹیاں بھی ہو سکتی ہیں اور ایک سے زائد بھائیوں کی بیٹیاں بھی ، اسی طرح بھانجے ، بھانجیاں بھی، ایک سے زیادہ بہنوں کی اولاد ہو سکتی ہے۔دونوں صورتوں میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔یکساں عمل ہو گا۔مثال نمبر ۲: ایک میت نے دو بیویوں ، ایک بھتیجی اور دو بھانجیاں وارث چھوڑیں اگر قابل تقسیم جائداد ۱۶۰۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔زوجہ ذوی الفروض ہے اس لئے دو بیویوں کا حصہ 1/3 = ہر بیوی کا حصہ باقی = = الله الله = الله - اب عصبات موجود نہیں اور زوجہ ذوی الارحام کی توریث میں مانع نہیں ہوتی۔اس لئے باقی (۳/۴ حصہ ) ذوی الارحام میں تقسیم ہوگا۔