اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 91 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 91

۹۱ ترکہ میں والدہ کا حصہ = ۳۶۰۰ × = = ۶۰۰ روپے 1 ۳۶۰۰ × ۸ = ۴۵۰ روپے ۲ ۳۶۰ × ۲۴ = ۳۰۰ روپے = = زوجہ کا حصہ ہر لڑکے کا حصہ ہر لڑکی کا حصہ 1 ۳۶۰۰ × ۲۴ = ۱۵۰ روپے نوٹ: اگر میت مرد ہے تو یہ تمیز نہیں ہوگی کہ بیٹے بیٹیاں یا صرف بیٹے یا صرف بیٹیاں اس کی کسی بیوی سے ہیں اگر وہ اس کی اولاد ہیں تو خواہ وہ کسی بھی بیوی سے ہوں تقسیم مندرجہ بالا طریق سے ہی ہوگی۔اسی طرح اگر میت عورت ہے تو اس سے بحث نہیں کہ بیٹے بیٹیاں وغیرہ کس خاوند سے ہیں اس کے پہلے خاوند سے ہیں یا موجودہ خاوند سے وراثت کے لئے متوفیہ سے صرف ان کا تعلق رحم مدنظر رکھا جاتا ہے۔۔پوتی کا حصہ عام طور پر بیٹے کی بیٹی کو پوتی کہتے ہیں۔لیکن وراثتی اصطلاح میں پوتے اور پڑپوتے کی بیٹی کو بھی پوتی ہی کہتے ہیں۔میت کے بیٹے کی موجودگی میں پوتی وارث نہیں ہوتی اسی طرح دو بیٹیوں کی موجودگی میں بھی وہ وارث نہیں ہوتی ہوتی کی میراث کی مختلف صورتیں یہ ہیں۔اگر میت کی صرف ایک بیٹی ہو ( کوئی بیٹا پوتا وغیرہ نہ ہو) اور ایک پوتی ہو تو پوتی کو /۱ حصہ ہی ملتا ہے جس میں یہ تمام برابر کی شریک ہوتی ہیں۔(تکمای پینٹنگمین ) اگر میت کی دو یا دو سے زائد بیٹیاں ہوں اور بیٹا ، پوتا موجود نہ ہو۔تو پوتیاں بالکل محروم ہوتی ہیں۔اگر میت کا بیٹا ، بیٹی وغیرہ موجود نہ ہوں صرف ایک پوتی ہو تو وہ بیٹی کی طرح ترکہ کا نصف (۱/۲) حاصل کرے گی۔اگر ہوتی نہ ہو تو ایک پڑپوتی ہو تو وہ بھی ۱/۲ حصہ حاصل کرے گی۔اگر میت کا بیٹا، بیٹی وغیرہ کوئی موجود نہیں اور دو یا دو سے زائد پوتیاں موجود ہیں تو ان کو بیٹیوں کی طرح کل ترکہ کا ۲/۳ حصہ دیا جائے گا جو وہ باہم برابر برابر تقسیم