اسلام کا وراثتی نظام — Page 92
۹۲ کرلیں گی۔اگر میت کا بیٹا، بیٹی کوئی نہ ہو ، پوتی یا کئی پوتیاں ہوں اور ان کے ساتھ کوئی پوتا بھی ہو تو پھر پوتے کی موجودگی کی وجہ سے عصبہ ( بالغیر ) بن جاتی ہیں اور ذوی الفروض کو حصہ دینے کے بعد جو کچھ باقی بچے وہ ان میں لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْانْثَيَيْنِ کے تحت تقسیم ہو جائے گا۔اگر صورت نمبر 4 میں پوتیوں کے ساتھ کوئی ہوتا تو موجود نہیں مگر پڑپوتا موجود ہے تب بھی یہ ( پوتیاں ) عصبہ بالغیر بن جاتی ہیں اور ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو باقی بچے یہ آپس میں ۱:۲ کی نسبت سے تقسیم کر لیتے ہیں۔نوٹ : الف اگر میت کا کوئی بیٹا موجود ہے تو پوتیاں، پڑپوتیاں وغیرہ سب محروم رہیں گی اسی طرح اگر میت کی پوتیاں موجود ہیں تو پر پوتیاں محروم ہوں گی۔اگر پر پوتیاں تو ہیں تو سکر پوتیاں محروم ہوں گی۔علی ہذا القیاس۔پوتیوں کی وراثت کے لئے یہ ضروری نہیں کہ تمام پوتیاں ایک ہی بیٹے کی اولاد ہوں یا سب پڑپوتیاں ایک ہی پوتے کی اولاد ہوں اگر مختلف بیٹوں کی بیٹیاں اور بیٹے ہیں تب بھی تقسیم انہی اصولوں پر ہو گی۔اس لئے ایک باپ کے تمام بیٹوں کی اولا د کو اکٹھا دیکھا جائے گا کہ اس کے کتنے پوتے پوتیاں یا صرف پڑپوتے ، پڑپوتیاں ) ہیں پھر اس کے مطابق پوتے اور پوتیوں کو حصہ دیا جائے گا اس طرح کہ پوتے کے دو حصے اور پوتی کا ایک حصہ مثلاً زید کے دو بیٹے تھے۔رفیق اور لئیق اور رفیق کے پانچ لڑکے ہیں اور لئیق کی صرف ایک لڑکی ہے۔لہذا زید کے ترکہ کی تقسیم یوں ہوگی کہ ذوی الفروض کے حصوں کی ادائیگی کے بعد جو باقی بچے گا وہ ان پانچ پوتوں اور ایک پوتی میں ۲: ا کی نسبت سے تقسیم کیا جائے گا یعنی پانچ پوتوں کو دس حصے اور پوتی کو صرف ایک حصہ دیا جائے گا۔اسی طرح اگر ایک شخص اپنے پیچھے ایک بیٹا ، دوسرے بیٹے کے چند بیٹے اور تیسرے بیٹے کی کچھ بیٹیاں چھوڑ جائے تو پھر تمام پوتیاں خواہ میت کے کسی بیٹے کی اولاد ہوں میت کے اپنے بیٹے کے سامنے محروم رہیں گی۔اور چونکہ کوئی اور وارث نہیں اس لئے تمام تر کہ بیٹا ہی حاصل کرے گا۔مثال نمبر ۲۶