اسلام کا وراثتی نظام — Page 68
۶۸ ے۔علاقی بھائی: ہرقسم کے بھتیجوں ، چچاؤں اور ان کی اولاد کو محروم کر دیتا ہے۔وہ رشتہ دار جو شرعاً وارث نہیں ہو سکتے۔۱۔سوتیلی ماں یا سوتیلا باپ اپنی سوتیلی اولاد کے ترکہ سے حصہ نہیں پا سکتے۔اسی طرح سوتیلی اولاد اپنے سوتیلے ماں باپ کے ترکہ سے حصہ نہیں پاسکتی۔یعنی پہلے خاوند سے بیوی کی اولاد موجود خاوند کے ترکہ میں حصہ کی حق دار نہیں ہو سکتی۔اسی طرح موجودہ خاوند بیوی کے پہلے خاوند کے بچوں کے ترکہ میں حق دار نہیں ہو سکتا۔خاوند کی وہ اولاد جو کسی دوسری بیوی کے بطن سے ہو اپنی ( سوتیلی ) ماں سے کسی قسم کا حصہ نہیں پاسکتی۔اس طرح ماں اپنے اُن بچوں کے ترکہ سے حصہ نہیں پاتی۔جو کہ اس کے بطن سے نہیں۔البتہ ایسے رشتہ داروں کو کسی اور جہت سے میراث پہنچتی ہو تو وہ محض سوتیلے پن کی وجہ سے محروم نہیں ہوں گے۔مثلاً اگر سوتیلا لڑکا بھتیجا بھی ہو۔اسی طرح اگر سوتیلی ماں خالہ بھی ہو۔سوتیلا باپ چا بھی ہو اور کوئی اور نزدیکی عصبہ یا ذوی الارحام موجود نہ ہوں جو انہیں مکمل طور پر مجوب کر دیں تو ان سوتیلے رشتہ داروں کو میراث سے حصہ ملے گا۔۲۔شوہر کے تمام رشتہ دار بیوی کے ترکہ سے کچھ حصہ نہیں۔پاتے اسی طرح بیوی کے تمام رشتہ دار شوہر کے ترکہ سے کچھ حصہ نہیں پاتے۔شوہر کے تمام رشتہ دار یعنی اس کے ماں باپ اپنی بہو کی جائداد سے اور بہن بھائی اپنی بھابھی کی جائداد سے بلحاظ کسی وراثت کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتے۔اسی طرح بیوی کے تمام رشتہ داروں یعنی اس کے ماں باپ، بہن بھائی کو اپنے داماد یا بہنوئی کی وراثت سے کسی قسم کا تعلق نہیں سوائے اس کے کہ وہ متوفی کے ساتھ کوئی اور رشتہ دار بھی رکھتے ہوں۔مثلاً دامادی کے علاوہ کوئی شخص متوفی یا متوفیہ کا بھتیجہ بھی ہو۔اس طرح بہو ہونے کے ساتھ ساتھ و بھتیجی یا بھانجی بھی ہو تو انہیں اس جہت سے میراث پہنچنے کا جواز ہر وقت موجود ہے۔بشرطیکہ کوئی اور نزدیکی عصبہ یا ذوی الارحام موجود نہ ہو جو ان کو محجوب کر دے۔