اسلام کا وراثتی نظام — Page 59
۵۹ لیکن حضور کے دوسرے ارشادت کی روشنی میں ایسا باپ اپنے بیٹے کی میراث محروم رہے گا۔۲۔غلامی فی زمانہ تو بظاہر کہیں غلامی کا رواج نہیں لیکن اگر کسی جگہ ہو یا آئندہ کہیں پیدا ہو جائے تو چونکہ غلام کی اپنی ملکیت تو ہوتی نہیں۔کہیں سے اس کو کچھ ملے تو وہ بھی اس کے مالک کی ملکیت بن جاتا ہے۔اس لئے اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے تو متوفی کے مال میں سے غلام کو میراث نہ ملے گی۔کیونکہ اگر کسی غلام کو ترکہ کا حصہ دلایا جائے تو وہ اس غلام کے مالک کو مل جائے گا۔گویا یہ مال ایسے شخص کو پہنچ جائے گا جو کسی لحاظ سے بھی اس مال کا قطعاً حقدار نہ تھا۔اسی طرح اگر کوئی غلام فوت ہو جائے تو اس کی وفات پر اس کے رشتہ داروں کو اس لئے کچھ نہیں ملتا کہ غلام کی اپنی ملکیت کچھ بھی نہیں ہوتی۔لہذا غلامی بھی مانع میراث ہے۔اختلاف دین (مذہب کا مختلف ہونا ) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَمَّادٌ عَنْ حَبِيْبِ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرٍ و بُنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ وقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَارَتْ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتّى۔(سنن ابی داؤ د کتاب الفرائض جلد دوم) موسی بن اسماعیل ، حماد نے حبیب معلم سے اس نے عمرو بن شعیب سے اس نے اپنے والد سے اور اس نے اپنے دادا ( حضرت ) عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مختلف مذہب رکھنے والے ( جو محارب ہوں ) ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے یعنی اگر مورث اور وارث کے مذہب مختلف ہوں (اور حربی کیفیت رکھتے ہوں ) تو وارث کو مورث کی جائداد سے حصہ نہیں ملتا۔نوٹ : حضور علیہ السّلام نے جس ماحول میں یہ ارشاد فرمایا اُس سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں اختلاف دین سے مراد صاف طور پر ایک کا مسلم اور دوسرے کا حربی غیر مسلم ہونا ہے،