اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 58 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 58

۵۸ قاتل اپنے مقتول کے مال کا وارث نہیں ہوتا۔خواہ ایسا قاتل ذوی الفروض میں شمار ہوتا ہو یا عصبات میں یا ذوی الارحام میں۔چنانچہ مروی ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْقَاتِلُ لَا يَرتُ۔نے فرمایا:۔ترندی۔ابواب الفرائض باب (۱۶) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ قاتل مقتول کے مال کا وارث نہیں ہوتا۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بالغ وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو پھر وہ (وارث ) ترکہ سے بالکل محروم کر دیا جاتا ہے۔یہاں قتل سے مراد وہ قتل ہے جس سے کفارہ یا قصاص لا زم آئے۔اور اس کی تین قسمیں ہیں۔قتل عمل : ( قتل بالا رادہ) وہ قتل ہے جو جان سے مار ڈالنے کے ارادہ سے ہو۔خواہ کسی بھی ہتھیار سے کیا جائے۔مثلاً تلوار، بندوق ، پستول ، کلہاڑی وغیرہ سے۔ب مقتل شبہ عمد : وہ قتل جو ہو تو جان سے مار ڈالنے کے ارادہ سے مگر کسی ایسی چیز کے ذریعہ سے ہو جو ہتھیاروں Weapons میں شمار نہ ہوتی ہو۔مثلاً لاٹھی وغیرہ۔ج قتل خطاء : وہ قتل ہے جس میں قتل کی نیت نہ ہو۔مثلاً غلطی سے بندوق کی صفائی کرتے وقت گولی کا چل جانا یا کسی شکار کو نشانہ بنانا، کسی غلطی سے کسی مورث کا مر جانا۔قتل عمد کی صورت میں قصاص لازم آتا ہے۔باقی دو میں کفارہ۔نوٹ : قتل شبہ خطا اور قتل بسبب ( جو قتل شبہ میں ہی شامل ہے ) مانع میراث نہیں قتل بسبب یہ ہے کہ جیسے کسی شخص نے دوسرے شخص کی زمین میں کوئی گڑھا کھودا اور اس گڑھے میں اس کا کوئی مورث گر کر مر گیا۔یہ قتل بسبب ہوگا۔جو مانع میراث نہیں کیونکہ نہ اس میں قصاص واجب ہے اور نہ ہی کفارہ۔البتہ اگر کوئی ظالم باپ اپنے بیٹے کو عمد آمار ڈالے تو اگر چہ شرعاً اس کا قصاص نہیں ہے جیسا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔لَا يُقْتَلُ الْوَالِدُ بوَلَدِهِ