اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 49 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 49

۴۹ وصیت پوری کریں۔دوسرے کو اس کا پورا شرعی حصہ دے دیں۔اسی طرح اگر اغراض وصیت کو پورا کرنے کے بعد وصیت کردہ مال میں سے کچھ بیچ جائے تو پھر وہ بقیہ رقم بھی باقی ترکہ کے ساتھ ملا کر وارثوں میں تقسیم کر دی جائے۔اگر کوئی شخص اپنے یتیم یا مسکین رشتہ داروں کے لئے وصیت کرے مثلاً ۵۰۰۰ ہزار روپے زید کے بچوں میں برابر تقسیم کر دیں اور زید کے تین لڑکے اور دولڑکیاں ہوں تو یہ رقم (۵۰۰۰ روپے) ان بچوں میں برابر برابر تقسیم ہونی چاہئے بشرطیکہ ۵۰۰۰ کی رقم میت کے ترکہ کے ۱/۳ سے کم یا زیادہ سے زیادہ ۱/۳ کے برابر ہو۔جس شخص کے لئے وصیت کی جائے اس کا وصیت کے وقت زندہ ہونا لازمی موصی کی وفات کے وقت اس کا زندہ ہونا ضروری نہیں یا یوں سمجھ لیجئے کہ کسی وفات یافتہ شخص کے لئے وصیت جائز نہیں۔البتہ اگر وہ شخص وصیت کئے جانے کے بعد موصی کی زندگی میں ہی فوت ہو جائے تو وصیت جاری رہے گی اور جس شخص کے لئے وصیت کی گئی تھی اب اس کی جگہ اس کے وارث وصیت کے مستحق ہوں گے۔مثال: زید نے عمر کے لئے وصیت کی کہ اس کے ترکہ سے عمر کو ۲۵۰۰ روپے دے دیئے جائیں۔عمر اس وصیت کے دو سال بعد فوت ہو گیا اور موصی زید اس کے ایک سال بعد فوت ہوا۔اگر زید کا ترکہ ۹۰۰۰ روپے ہو اور زید کے ایک بیٹا اور تین بیٹیاں وارث ہوں تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ اس طرح اگر عمر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہوں تو وصیت کی مالیت میں عمر کی اولاد کا حصہ بتائیے۔زید کا حصہ وصیت کی مالیت = = قابل تقسیم تر که ما بین ورثاء زید ۹۰۰۰ رو۔روپے ۲۵۰۰ ( جو کہ زید کے ترکہ کے ۱/۳ سے کم ہے) ۹۰۰۰ = - = ۲۵۰۰ ۲۵۰۰ روپے یه ۶۵۰۰ روپے زید کے ایک بیٹے اور تین بیٹیوں میں ۱:۲ کی نسبت سے تقسیم ہو گا۔اس لئے زید کے بیٹے کا حصہ ۲/۵ × ۶۵۰۰ = = ۲۶۰۰ روپے زید کی ہر بیٹی کا حصہ = ۷۵۰۰ × ۱/۵ = ۱۳۰۰ روپے وصیت کی رقم (۲۵۰۰ روپے ) عمر کے ورثاء میں بطور ترکہ تقسیم ہوگی کیونکہ وہ خود